ہماری صحافتی ذمہ داری
اردو نیوز کی ادارتی پالیسی درستگی، تصدیق، واضح نسبت، توازن، ادارتی آزادی اور عوامی مفاد کے اصولوں پر مبنی ہے۔
ہم کوشش کرتے ہیں کہ خبر کو غیر ضروری سنسنی، مبالغے یا گمراہ کن انداز کے بغیر قارئین تک پہنچایا جائے۔
خبر کی تصدیق
خبر شائع کرنے سے پہلے دستیاب معلومات کا ادارتی جائزہ لیا جاتا ہے۔
خبر کی نوعیت کے مطابق سرکاری بیانات، دستاویزات، متعلقہ حکام، معتبر خبر رساں اداروں اور دیگر قابلِ اعتماد ذرائع سے معلومات کی تصدیق کی کوشش کی جاتی ہے۔
حقائق کی جانچ
نیوز ڈیسک خبر کے دوران درج ذیل امور کا جائزہ لینے کی کوشش کرتا ہے:
- نام اور عہدے
- تاریخ اور مقام
- اعداد و شمار
- متعلقہ ادارے
- سرکاری بیانات
- خبر کا بنیادی دعویٰ
- سرخی اور خبر کے متن میں مطابقت
گمنام ذرائع
اردو نیوز جہاں ممکن ہو قابلِ شناخت ذرائع کو ترجیح دیتا ہے۔
تاہم عوامی مفاد کے اہم معاملے میں، مناسب ادارتی جانچ کے بعد گمنام ذریعہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
گمنام ذرائع کو غیر مصدقہ افواہوں یا ذاتی الزامات کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
حقِ جواب
کسی فرد یا ادارے کے خلاف اہم الزام یا دعویٰ شامل ہونے کی صورت میں جہاں ممکن ہو متعلقہ فریق کا مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بعد میں موصول ہونے والا متعلقہ مؤقف بھی خبر کو update کرتے ہوئے شامل کیا جا سکتا ہے۔
پریس ریلیز پالیسی
پریس ریلیز کو خودکار طور پر آزاد خبر تصور نہیں کیا جاتا۔
پریس ریلیز سے حاصل معلومات کا ادارتی جائزہ لیا جاتا ہے اور ضرورت کے مطابق attribution اور context شامل کیا جاتا ہے۔
AI پالیسی
اردو نیوز translation، transcription، research assistance یا دیگر محدود ادارتی کاموں کے لیے AI-based tools استعمال کر سکتا ہے۔
AI-generated information کو حتمی طور پر شائع کرنے سے پہلے انسانی ادارتی جائزہ ضروری ہے۔
AI انسانی fact-checking اور editorial judgment کا متبادل نہیں ہے۔
Opinion Policy
کالم، مضامین، تجزیے اور opinion pieces میں مصنف کے خیالات شامل ہوتے ہیں۔
ایسے خیالات لازماً اردو نیوز کے ادارتی مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے۔
خبر اور opinion content کے درمیان واضح فرق رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
Sponsored Content
Sponsored یا commercial content کو آزاد editorial reporting سے الگ رکھا جاتا ہے۔
تجارتی تعلقات ادارتی فیصلوں اور خبر کی آزادانہ رپورٹنگ پر اثرانداز نہیں ہونے چاہئیں۔
تصحیحات
اگر کسی خبر میں factual error ثابت ہو تو ادارتی ٹیم مناسب correction یا update جاری کر سکتی ہے۔
تفصیلی طریقہ کار ہماری تصحیح و اصلاح کی پالیسی میں درج ہے۔
