اسلام آباد۔23فروری (اے بی سی):آم کے حفاظتی تھیلوں کا استعمال 2026 میں تقریباً ایک کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ محفوظ شدہ آم کی برآمدی قیمتوں میں تقریباً 70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اس معیار بہتر بنانے والی تکنیک پر صنعت کے بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔یہ حفاظتی تھیلے پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (PHDEC) نے متعارف کرائے ہیں، جن کا مقصد بعد از برداشت نقصانات میں کمی، پھل کے معیار میں بہتری اور اعلیٰ برآمدی منڈیوں تک رسائی کو فروغ دینا ہے۔پی ایچ ڈی ای سی کے منیجر ایگری پروڈکٹس خاور ندیم نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آم کو محفوظ بنانے کا یہ طریقہ کاشتکاروں اور برآمدکنندگان دونوں کیلئے ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوا ہے۔
پاکستان سالانہ تقریباً 18 لاکھ ٹن آم پیدا کرتا ہے، تاہم اس میں سے صرف ڈیڑھ لاکھ ٹن یعنی تقریباً 8.3 فیصد برآمد کیا جاتا ہے۔ اس فرق کی بڑی وجہ کیڑوں، داغ دھبوں اور ہینڈلنگ مسائل کے باعث ہونے والے نقصانات ہیں، جو کاشتکاروں کی آمدنی کم کرتے اور اعلیٰ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کی رسائی محدود کرتے ہیں۔اس مسئلے کے حل کیلئے پی ایچ ڈی ای سی نے ایسے حفاظتی تھیلے متعارف کرائے جو درخت پر لٹکے آموں کو 30 سے 45 روز تک فروٹ فلائی، گردوغبار اور دھوپ سے بچاتے ہیں، جس سے کیڑے مار ادویات کے اسپرے پر انحصار بھی کم ہوتا ہے۔
اس کے نتیجے میں پھل کا رنگ بہتر، صفائی زیادہ اور یورپ، امریکہ اور جاپان جیسی پریمیم منڈیوں میں قبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔بین الاقوامی منڈیوں میں بغیر تھیلے والے آم کی 5 کلو گرام پیٹی عموماً 17 سے 18 ڈالر میں فروخت ہوتی ہے، جبکہ تھیلا لگانے کے بعد یہی مقدار 30 ڈالر تک قیمت حاصل کر سکتی ہے، جو تقریباً 70 فیصد اضافے کے برابر ہے۔یہ اقدام ابتدا میں ایک چھوٹے پائلٹ منصوبے کے طور پر شروع ہوا تھا، جو بتدریج پورے شعبے کی تحریک میں تبدیل ہوگیا۔ ابتدائی طور پر کسان اس تکنیک کو اپنانے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔
خاور ندیم نے بتایا کہ ابتدا میں سندھ اور پنجاب کے 25 سے 30 کاشتکاروں میں ڈیڑھ لاکھ تھیلے تقسیم کیے گئے۔ جیسے جیسے کسانوں نے معیار اور قیمت میں فرق دیکھا، ان کا ردعمل مثبت ہوتا گیا۔2022 میں پی ایچ ڈی ای سی نے پنجاب اور سندھ میں دو لاکھ آم کے تھیلے مفت تقسیم کیے۔ یہی تعداد 2023 اور 2024 میں بھی فراہم کی گئی۔ 2025 تک کاشتکاروں اور برآمدکنندگان نے خود سیزن کیلئے 10 لاکھ تھیلے خریدے، جو سبسڈی سے تجارتی اپنانے کی جانب منتقلی کا واضح اشارہ ہے۔
خاور ندیم کے مطابق آئندہ سیزن میں تھیلوں کے استعمال میں نمایاں اضافہ متوقع ہے اور یہ تعداد تقریباً ایک کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، جو اس تکنیک پر صنعت کے مضبوط اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔فی الوقت آم کے تھیلے چین سے درآمد کیے جا رہے ہیں جن کی قیمت تقریباً 6 روپے فی تھیلا ہے۔ کاشتکاروں نے لاگت میں کمی اور خاص طور پر چھوٹے کسانوں کیلئے رسائی آسان بنانے کیلئے مقامی سطح پر تیاری کے یونٹس قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان آم پیدا کرنے والا دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ آم ملک کی دوسری بڑی پھلوں کی فصل ہے اور ہارٹیکلچر برآمدات میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

