اسلام آباد-24 فروری (اے بی سی):وزارت اوورسیز پاکستانی و ترقیِ انسانی وسائل نے کارکنوں اور ملازمین کے لیے پیشہ ورانہ حفاظت و صحت (او ایس ایچ) کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے 3 کروڑ 97 لاکھ 60 ہزار روپے مالیت کا استعداد کار بڑھانے کا منصوبہ تجویز کیا ہےجس کا خصوصی ہدف زیادہ خطرات اور برآمدات سے وابستہ شعبے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ’’کارکنوں/ملازمین کی پیشہ ورانہ حفاظت و صحت سے متعلق استعداد کار میں اضافہ‘‘ کے عنوان سے یہ منصوبہ جولائی 2026 سے جون 2028 تک دو سال کی مدت میں نافذ کیا جائے گا۔
اس اقدام کا مقصد محفوظ اور صحت مند کام کے ماحول کو فروغ دے کر مزدوروں کی فلاح کو مضبوط بنانا ہے، خصوصاً ان شعبوں میں جہاں کارکنوں کو زیادہ خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔ منصوبے کے تحت براہِ راست 3,920 کارکنوں کو پیشہ ورانہ حفاظت و صحت سے متعلق تربیت دی جائے گی جبکہ تربیتی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے 6 ماسٹر ٹرینرز اور انسٹرکٹرز تیار کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی او ایس ایچ معیارات پر عمل درآمد کو فروغ دینے کے لیے 30 ورک پلیس انسپیکشنز اور سیفٹی آڈٹس بھی کیے جائیں گے۔
دستاویز میں ترجیحی شعبوں میں تعمیرات و انفراسٹرکچر، صحت کی خدمات، خوراک، مشروبات اور تمباکو کی صنعتیں، تیل و گیس کی پیداوار و ریفائننگ، بنیادی دھات سازی، اینٹوں کے بھٹے اور دیگر خطرناک مزدوری کے شعبے شامل ہیں۔ ان شعبوں کو پیشہ ورانہ خطرات کی زیادہ شرح اور برآمدی معیشت میں اہم کردار کے باعث ترجیح دی گئی ہے ۔ منصوبہ کام کی جگہوں پر حادثات، حفاظتی شعور کی کمی اور ادارہ جاتی استعداد میں خلا جیسے بنیادی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
منظم تربیت، آگاہی مہمات اور ادارہ جاتی مضبوطی کے ذریعے حکومت صنعتوں میں احتیاطی حفاظتی کلچر کو فروغ دینا چاہتی ہے۔حکمت عملی کے اعتبار سے یہ منصوبہ سماجی، معاشی اور بین الاقوامی اہمیت کا حامل ہے۔ بہتر او ایس ایچ طریقہ کار سے کام کی جگہوں پر زخمی ہونے اور پیشہ ورانہ بیماریوں میں کمی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور آجروں کے لیے معاوضوں اور انشورنس اخراجات میں کمی متوقع ہے۔
یہ اقدام انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے کنونشن نمبر 155 اور 187 پر عمل درآمد میں معاون ثابت ہوگا اور یورپی یونین کے جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت لیبر سے متعلق ذمہ داریوں سے ہم آہنگی کو بھی مضبوط کرے گا، جو پاکستان کی برآمدات کے ایک بڑے حصے کی حمایت کرتی ہے۔منصوبے کے تحت معیاری او ایس ایچ تربیتی نصاب اور مواد تیار کیا جائے گا۔ ٹریننگ آف ٹرینرز (ٹی او ٹی) سیشنز کے ذریعے 6 ماسٹر ٹرینرز تیار کیے جائیں گے جبکہ زیادہ خطرات والے شعبوں کے 3,920 کارکنوں اور ملازمین کو باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے گی۔
اس کے علاوہ 30 ورک پلیس معائنوں اور سیفٹی آڈٹس کے انعقاد، سیمینارز اور ورکشاپس کے اہتمام، ڈیجیٹل آگاہی کے فروغ، ہنگامی تیاری، واقعہ رپورٹنگ اور ذہنی صحت سے متعلق شعور بیدار کرنے کی سرگرمیاں بھی شامل ہوں گی۔کام کی جگہوں میں بہتری کے علاوہ اس منصوبے سے طبی اور انشورنس اخراجات میں کمی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور حادثات کے باعث کام کے تعطل میں کمی جیسے معاشی فوائد بھی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ سماجی سطح پر محفوظ کام کے ماحول اور کارکنوں و ان کے خاندانوں کے معیارِ زندگی میں بہتری متوقع ہے، جبکہ صنعتی حادثات میں کمی اور ضابطہ جاتی تعمیل میں بہتری کے ذریعے ماحولیاتی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

