اسلام آباد، 6 مارچ (اے بی سی): نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار جینومکس اینڈ ایڈوانسڈ بایوٹیکنالوجی میں حال ہی میں قائم کیا گیا جدید انٹیلیجنٹ اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) سمارٹ گلاس ہاؤس سائنس دانوں کو مصنوعی طور پر پیدا کردہ گرمی، خشک سالی اور سردی جیسے حالات میں فصلوں کی آزمائش کرنے کے قابل بنا رہا ہے جو پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ فصلوں کی اقسام کی تیاری کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔
یہ سہولت زرعی تحقیق کے لئے ایک بڑی پیشرفت کی علامت ہے، نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (NARC) کے خصوصی شعبے NIGAB کے پرنسپل سائنٹیفک آفیسر ڈاکٹر محمد رمضان خان نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث خوراک کی پیداوار کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یہ انٹیلیجنٹ گلاس ہاؤس پاکستان کو مضبوط فصلیں تیار کرنے، وسائل کے مؤثر استعمال اور زیادہ مستحکم زرعی نظام کے فروغ میں مدد دے رہا ہے۔
یہ سہولت چین۔پاکستان زرعی بریڈنگ انوویشنز فار ریپڈ ییلڈ انہانسمنٹ منصوبے کے تحت قائم کی گئی ہے۔ روایتی گرین ہاؤسز کے برعکس یہ انٹیلیجنٹ گلاس ہاؤس فصلوں کی مخصوص ضروریات کے مطابق ماحول ترتیب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے سائنس دان پودوں کو زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں اگا سکتے ہیں۔
یہ سہولت 2,640 مربع فٹ پر مشتمل ہے اور اس میں مصنوعی ذہانت، سینسرز، پروگرام ایبل لاجک کنٹرولرز اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسے آئی او ٹی ٹیکنالوجیز استعمال کی جا رہی ہیں جو درجہ حرارت، نمی، کاربن ڈائی آکسائیڈ، روشنی اور پانی کو حقیقی وقت میں کنٹرول کرتی ہیں۔
ڈاکٹر محمد رمضان خان کے مطابق آئی او ٹی پر مبنی یہ گلاس ہاؤس جینومکس، ڈیجیٹل زراعت اور پائیدار خوراک کی پیداوار کو یکجا کرتا ہے۔ ان کے بقول یہ روایتی بریڈنگ سے ڈیٹا پر مبنی، موسمیاتی طور پر ذہین اور درست زرعی نظام کی جانب ایک بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس سمارٹ گلاس ہاؤس میں آٹھ علیحدہ اور پروگرام ایبل چیمبرز موجود ہیں جہاں سائنسدان انتہائی موسمی حالات کی نقل تیار کر سکتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد رمضان خان نے بتایا کہ اس سے محققین یہ جانچ سکتے ہیں کہ فصلیں موسمی دباؤ کا کس طرح مقابلہ کرتی ہیں اور زیادہ مضبوط اقسام کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔
اس سہولت میں سمارٹ فل سپیکٹرم گرو لائٹس اور معاون فلڈ لائٹس نصب ہیں جو پودوں کی افزائش میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں خودکار شیڈنگ سسٹم بھی شامل ہے۔ ڈاکٹر محمد رمضان خان کے مطابق ہر چیمبر کے لئے خودکار اندرونی شیڈنگ سسٹم مثالی نشوونما کے حالات برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے جس کے لئے دستی مداخلت کی ضرورت نہیں رہتی۔
اس سہولت میں گندم، چاول، کپاس، کینولا، ٹماٹر، آلو اور اسٹرابیری سمیت اہم فصلوں کی کاشت اور تحقیق پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ جینوم اسسٹڈ اسپیڈ بریڈنگ کے ذریعے سائنس دان ایک سال کے اندر متعدد فصلوں کی نسلیں تیار کر کے فصلوں کی ترقی کے دورانیے کو نمایاں طور پر کم کر سکتے ہیں۔
اس گلاس ہاؤس کا مقصد نئی فصلوں کی اقسام تیار کرنے کا دورانیہ تقریباً 10 سال سے کم کر کے پانچ سال تک لانا ہے۔ ڈاکٹر محمد رمضان خان کے مطابق محققین اب سالانہ چار سے آٹھ فصلوں کی نسلیں حاصل کر سکتے ہیں جس سے بریڈنگ کے عمل میں تیزی آتی ہے اور بہتر اقسام جلد متعارف کرانا ممکن ہو جاتا ہے۔
تحقیقی سرگرمیوں سے حوصلہ افزا نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ سائنس دانوں نے گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت جانچنے کے لئے چاول کی 244 لائنز کی سکریننگ کی جبکہ گندم کی 400 لائنز پر سپیڈ بریڈنگ کی گئی۔ جین ایڈیٹڈ گنا، ٹماٹر اور آلو کے پودوں کو بھی کنٹرولڈ حالات میں کامیابی سے موافق بنایا گیا ہے۔
فصلوں کی افزائش کے علاوہ اس سہولت میں عمودی اور افقی ایکواپونکس نظام بھی شامل ہیں۔ یہ بغیر مٹی کے کاشتکاری کے نظام ہیں جن میں مچھلیوں کے فضلے کو قدرتی کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ پانی کو نظام کے اندر ہی دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔
اس ایکواپونکس نظام کے ذریعے محققین نے 800 اسٹرابیری اور 700 سیلری کے پودے کامیابی سے اگائے جبکہ غذائی اجزاء کے استعمال کی کارکردگی جانچنے کے لئے 16 ٹماٹر کے پودے بھی کاشت کئے گئے۔
تحقیق کے علاوہ یہ سمارٹ گلاس ہاؤس سائنس دانوں، بریڈرز، طلبہ اور تکنیکی ماہرین کے لئے تربیتی مرکز کے طور پر بھی کام کر رہا ہے جس سے جدید زرعی بایوٹیکنالوجی میں قومی مہارت کو مضبوط بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
ڈاکٹر محمد رمضان خان کے مطابق مختلف صوبوں میں سمارٹ گلاس ہاؤس کے ایسے ماڈلز کی توسیع ملک کی غذائی سلامتی کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے اور برآمدات پر مبنی زراعت کو فروغ دے سکتی ہے۔

