اسلام آباد۔7مارچ (اے بی سی):کوئٹہ ایکسپو سینٹر منصوبہ بتدریج آگے بڑھ رہا ہے اور توقع ہے کہ یہ نومبر 2027 تک مکمل ہو جائے گا۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ منصوبہ کوئٹہ کے ایسٹرن بائی پاس پر تختانی انڈسٹریل اسٹیٹ میں واقع ہے، اس منصوبے کی سپانسر وزارتِ تجارت ہے جبکہ اس پر عملدرآمد پاکستان ایکسپو سینٹر (پرائیویٹ) لمیٹڈ کر رہا ہے۔اس منصوبے کا مقصد بلوچستان میں نمائشوں، صارف میلہ جات اور کانفرنسوں کے انعقاد کے ذریعے تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے بین الاقوامی معیار کی سہولت قائم کرنا ہے۔منصوبے کی ابتدائی منظوری 2,500 ملین روپے لاگت سے دی گئی تھی تاہم بہتر انفراسٹرکچر اور اضافی سہولیات کی شمولیت کے باعث اس کی لاگت پر نظرِثانی کر کے 4,829 ملین روپے کر دی گئی ہے۔ نظرِثانی شدہ لاگت میں 1,210 ملین روپے (تقریباً 4.28 ملین ڈالر) کا غیر ملکی زرمبادلہ جزو بھی شامل ہے۔
اس منصوبے کی مالی معاونت وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت کی جا رہی ہے۔منصوبے کی ابتدائی منظوری 25 ستمبر 2019 کو دی گئی تھی جبکہ بعد ازاں 27 جنوری 2025 کو منظور ہونے والی نظرِثانی شدہ پی سی ون کے ذریعے اس کی تکمیل کی مدت 30 جون 2027 مقرر کی گئی۔ دستاویزات کے مطابق منصوبہ نظرِثانی شدہ ترقیاتی فریم ورک کے تحت مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔جون 2025 تک اس منصوبے پر 1,044 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں جو نظرِثانی شدہ پی سی ون کے تحت 23 فیصد مالی پیشرفت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح منصوبے کی جسمانی پیشرفت بھی 23 فیصد تک پہنچ چکی ہے،اب تک ہونے والی اہم پیشرفت میں منصوبہ دفتر کا قیام اور بائونڈری وال اور واچ ٹاور کی جزوی تعمیر شامل ہے۔
مالی سال 2025-26 کے لئے اس منصوبے کے لئے 50 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ مالی سال 2026-27 کے لئے 3,000 ملین روپے، بشمول غیر ملکی زرمبادلہ جزو، کی مجوزہ رقم رکھی گئی ہے تاکہ مزید ترقیاتی کاموں کی معاونت کی جا سکے اور منصوبے کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔تکمیل کے بعد کوئٹہ ایکسپو سینٹر بلوچستان میں تجارتی نمائشوں اور کاروباری تقریبات کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم بننے کی توقع ہے۔ یہ سہولت ملکی اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے، برآمدات کے فروغ کی کوششوں کو مضبوط بنانے اور نئی معاشی مواقع پیدا کرنے میں مدد دے گی۔ اس کے علاوہ اس منصوبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور بلوچستان کے قومی و عالمی تجارتی نیٹ ورکس سے انضمام کو بھی تقویت ملنے کی توقع ہے۔

