خصوصی صحت و غذائیت سے متعلق اقدام سے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد نوعمر لڑکیاں مستفید

اسلام آباد۔9 اپریل (اے بی سی):بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت سماجی تحفظ برائے صحت و ماحولیاتی لچک منصوبے کے تحت شروع کئے گئے ایک خصوصی صحت و غذائیت اقدام سے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد نوعمر لڑکیاں مستفید ہو چکی ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق جرمن ترقیاتی بینک کے ایف ڈبلیو کے تعاون سے یہ اقدام چھ منتخب اضلاع میں نافذ کیا گیا جس کا مقصد 13 سے 19 سال کی عمر کی لڑکیوں خصوصاً کمزور اور موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ علاقوں میں صحت اور غذائیت کی صورتحال کو بہتر بنانا تھا۔اس پروگرام کے تحت اہل شرکاء کو فی سہ ماہی 2,000 روپے تک مشروط نقد امداد فراہم کی گئی۔

یہ مالی معاونت مخصوص صحت سے متعلق شرائط کی تکمیل سے مشروط تھی جن میں آئرن اور فولک ایسڈ سپلیمنٹس کا باقاعدہ استعمال اور غذائیت و صحت سے متعلق آگاہی سیشنز میں شرکت شامل ہے،ان اقدامات کا مقصد مائیکرو نیوٹرینٹس کی وسیع کمی کو دور کرنا اور نوعمر لڑکیوں میں صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینا تھا۔ابتدائی طور پر اس اقدام کا ہدف تھا کہ وسط 2025 تک تقریباً 104,303 لڑکیوں تک رسائی حاصل کی جائے تاہم یہ ہدف نمایاں طور پر تجاوز کر گیا اور اب تک 361,459 مستفید کنندگان اس پروگرام میں شامل ہو چکے ہیں،ان میں سے ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد نئی رجسٹرڈ شرکاء ہیں جو پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع اور رسائی میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

2 ملین یورو کی مجموعی فنڈنگ کے ساتھ یہ ہدفی اقدام وسیع تر منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان میں سماجی تحفظ کو صحت اور ماحولیاتی لچک کی حکمت عملیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔نوعمر لڑکیوں کو ان کی نشوونما کے ایک اہم مرحلے پر ہدف بنا کر اس اقدام سے طویل المدتی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے جن میں بہتر زچگی صحت، غذائی قلت میں کمی، اور کمیونٹی سطح پر لچک میں اضافہ شامل ہیں۔ یہ پروگرام موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کمزور آبادیوں کے تحفظ کے لئے احتیاطی صحت اور سماجی تحفظ کے اقدامات پر بڑھتی ہوئی پالیسی توجہ کی عکاسی کرتا ہے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے