اسلام آباد۔13 اپریل (اے بی سی):خیبر پختونخوا حکومت نے رواں مالی سال کے دوران ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)کے تعاون سے جاری فوڈ سکیورٹی سپورٹ منصوبے کے تحت 127.533 ملین روپے خرچ کیے، جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں موسمیاتی لحاظ سے بہتر زرعی طریقوں کو فروغ دینا اور ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ منصوبہ، جس کی تکمیل 30 جون 2028 تک متوقع ہے، محکمہ زراعت کے زیرِ انتظام نافذ کیا جا رہا ہے۔منصوبے کی مجموعی لاگت 79 ملین ڈالر ہے، جس میں سے اب تک 15.10 ملین ڈالر (19 فیصد) جاری کیے جا چکے ہیں۔منصوبے کے تحت اب تک مجموعی طور پر 948.268 ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ مالی سال 2025-26 کے لیے اس کی مختص رقم 6.802 ارب روپے ہے۔
اس منصوبے کے تحت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق اور مضبوط زرعی طریقوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس میں کھاد اور بیجوں کی فراہمی شامل ہے، جن میں گندم، چاول اور ڈی اے پی کھاد 50 فیصد لاگت کی شراکت پر فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ کسانوں کو کھاد کے محفوظ اور مؤثر استعمال اور موسمیاتی موافق بیجوں کے بارے میں تربیت بھی دی جا رہی ہے۔پروگرام کے تحت سبزیوں کے پیکجز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ خواتین کسانوں کو کچن گارڈننگ، فوڈ پروسیسنگ اور محفوظ بنانے کی تربیت دی جا رہی ہے، جس سے تقریباً 53 ہزار خواتین کسان مستفید ہوں گی۔منصوبے میں ادارہ جاتی صلاحیت اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، جس کے تحت غیر منصوبہ اضلاع میں کسانوں کا ایک مربوط ڈیجیٹل ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے اور ای سبسڈی نظام قائم کیا جا رہا ہے۔
دیگر اقدامات میں صوبے میں بیجوں کی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے اسپیڈ بریڈنگ سہولت کا قیام اور پودوں کے تحفظ کے لیے آئی سی ٹی پر مبنی پیسٹ نگرانی نظام کا آغاز شامل ہے، جبکہ منصوبہ جاتی نظم و نسق اور آپریشنل سرگرمیوں کے لیے بھی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غذائی تحفظ کو بہتر بنانے، موسمیاتی جھٹکوں کے خلاف زرعی نظام کو مضبوط بنانے اور سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں کسانوں کی پیداوار میں اضافہ کرنے میں مدد دے گا، جس سے پائیدار زرعی ترقی اور دیہی معاش کو فروغ ملے گا۔

