بلوچستان میں کاشت کئے گئے 26 لاکھ زیتون کے پودے پیداوار کے مرحلے میں داخل

اسلام آباد۔04 مئی (اے بی سی):بلوچستان بھر میں کاشت کئے گئے تقریباً 26 لاکھ زیتون کے پودے پیداوار کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ 2028-29 تک مکمل پیداوار حاصل کر لیں گے۔ یہ بات زرعی تحقیقاتی ادارہ بلوچستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل عبدالرؤف کاکڑ نے کہی۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس پیشرفت کو ایک اہم کامیابی قرار دیا اور کہا کہ لورالائی ملک میں زیتون کی کاشت کا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لورالائی کے زیتون میں تیل کی مقدار 25 سے 32 فیصد کے درمیان ہے جو پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق روایتی باغات میں بھاری نقصانات کے بعد زیتون نے کسانوں کو ایک مؤثر متبادل فراہم کیا ہے۔بلوچستان کا پھلوں کا شعبہ سال 2000 ء کے لگ بھگ شروع ہونے والی طویل خشک سالی سے شدید متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیب، خوبانی اور بادام کی فصلوں کو بری طرح نقصان پہنچا ہے اور کئی علاقوں میں پانی کی کمی کے باعث پورے باغات ختم ہو گئے ہیں۔انہوں نے آبی وسائل کے بہتر انتظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ذخیرہ آب کے نظام میں سرمایہ کاری کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے کے مخصوص حالات کے پیش نظر نہری نظام اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے پانی کے تحفظ اور پائیداری میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے برعکس یہاں وسیع نہری نظام اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کی مناسب سہولتیں موجود نہیں تاہم یہ مستقبل میں ترقی کے بڑے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔عبدالرئوف کاکڑ نے کہا کہ زیتون کی کاشت بلوچستان کے ماحول کے لئے موزوں ہے اور علاقے میں لاکھوں جنگلی زیتون کے درخت موجود ہیں۔ اطالوی حکومت کے تعاون سے متعارف کرائی گئی اقسام اب برداشت کے مرحلے میں پہنچ چکی ہیں اور کسان تیزی سے انہیں اپنا رہے ہیں۔حکومت نے اس شعبے کی معاونت کے لئے لورالائی، ژوب، خضدار اور دیگر علاقوں میں تیل نکالنے کے یونٹس نصب کئے ہیں جس سے کسان کم لاگت پر مقامی سطح پر زیتون پراسیس کر سکتے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ پیداوار میں اضافے کے ساتھ مزید پراسیسنگ سہولیات کی ضرورت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ویلیو ایڈیشن اور مؤثر مارکیٹنگ میں بہتری ترقی کے اہم مواقع فراہم کرتی ہے اور ان شعبوں میں توجہ دینے سے کاشتکاروں کو بہتر قیمتیں مل سکتی ہیں اور مجموعی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقامی طور پر تیار کردہ ایکسٹرا ورجن زیتون کا تیل کئی درآمدی مصنوعات سے بہتر ہے۔ ان کے مطابق ہمارا تیل خالص اور ملاوٹ سے پاک ہے جبکہ درآمدی تیل اکثر پومیس یا ملاوٹ شدہ ہوتا ہے۔اس وقت ملک میں پیدا ہونے والا تمام زیتون کا تیل مقامی طور پر ہی استعمال ہو رہا ہے جو اس کی مضبوط طلب کی عکاسی کرتا ہے حالانکہ اس کی قیمت تقریباً 3,000 روپے فی لیٹر یا اس سے زیادہ ہے۔انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ زیتون کو کم پانی درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ تجارتی پیداوار کے لئے مناسب آبپاشی، تراش خراش اور کھاد کا استعمال ضروری ہے کیونکہ پانی کے بغیر درخت زندہ تو رہ سکتا ہے مگر اچھی پیداوار نہیں دے سکتا۔انہوں نے مزید بتایا کہ لورالائی کے زیتون کے تیل کو بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے اور نیویارک کے ایک مقابلے میں اسے چاندی کا تمغہ حاصل ہوا جس کی بڑی وجہ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور زیادہ فینولک مواد ہے۔عبدالرئوف کاکڑ نے زیتون کی کاشت کو بلوچستان کے لئے ایک نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فصل نہ صرف زراعت کی بحالی میں مدد دے رہی ہے بلکہ صوبے میں پائیدار معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے