پاکستان کا 2040 تک 75 فیصد انفراسٹرکچر کو موسمیاتی اثرات سے محفوظ بنانے کا منصوبہ

اسلام آباد-6 مئی (اے بی سی):پاکستان نے 2040 تک اپنے 75 فیصد بڑے انفراسٹرکچر کو موسمیاتی اثرات سے محفوظ بنانے اور سیلاب و شدید گرمی سے متاثرہ علاقوں میں 70 فیصد اہم اثاثوں کو اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ 2030 تک 25 ریزیلینٹ گروتھ زونز کے قیام کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق ملک کا مقصد بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کے مقابلے کے لئے فزیکل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا اور کلائمیٹ اسمارٹ نظام اور ابتدائی وارننگ میکانزم کے ذریعے اہم شعبوں میں طویل مدتی استحکام یقینی بنانا ہے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی آفات کی بڑھتی ہوئی شدت اور تکرار اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ موجودہ انفراسٹرکچر کمزور اور غیر تیار ہے۔ ترقیاتی فوائد کے تحفظ، نقصانات میں کمی اور پائیدار معاشی ترقی کے لئے موسمیاتی مزاحم انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری ناگزیر قرار دی گئی ہے۔حکمت عملی کے تحت 2027 تک صوبائی سطح پر تمام عوامی انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے فیصلوں میں موسمیاتی حساسیت کی جانچ شامل کی جائے گی جبکہ ہر انفراسٹرکچر منصوبے کے لئے موسمیاتی خطرات کا جائزہ اور موافقتی لاگت کا تعین لازمی ہوگا۔

دستاویز میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کا بڑا حصہ ایسے علاقوں میں واقع ہے جہاں خطرات زیادہ ہیں جیسے سیلابی میدان اور شدید گرمی سے متاثرہ اضلاع تاہم بہتر منصوبہ بندی اور جدید معیار کے ذریعے ان نظاموں کو اپ گریڈ کرنے کا موقع بھی موجود ہے۔ کئی موجودہ اثاثے پرانے فریم ورک کے تحت بغیر جامع موسمیاتی جائزے کے تیار کئے گئے جس سے وہ شدید موسمی حالات کے سامنے زیادہ کمزور ہو گئے۔ ترقیاتی فوائد کے تحفظ اور موسمیاتی آفات کے اثرات میں کمی کے لئے دستاویز میں مضبوط انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ پیشگی اقدامات آفات کے بعد مرمت کے مقابلے میں کم لاگت ہوتے ہیں اس لئے ردعمل پر مبنی حکمت عملی کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی اپنانا ضروری ہے۔اہم نظام جن میں قومی شاہراہیں، دریا کے بیسن، توانائی کی ترسیلی لائنیں، بندرگاہیں اور بڑی ٹرانسپورٹ راہداریوں بشمول چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) شامل ہیں، کو مضبوط بنانے کے لئے ترجیحی شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے تاکہ موسمیاتی دباؤ کا بہتر مقابلہ کیا جا سکے، ان اثاثوں کی بہتری سے معاشی استحکام اور طویل مدتی پائیداری میں اضافہ ممکن ہوگا۔اسی کے ساتھ شہری اور دیہی ترقی میں گرین انفراسٹرکچر کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

اس میں سپنج سٹیز، مربوط واٹرشیڈ مینجمنٹ، قدرتی نکاسی آب کے نظام اور موسمیاتی مزاحم تعمیراتی طریقے شامل ہیں جو پائیدار ترقی کے لیے عملی حل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ منصوبے کے تحت تمام بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں موسمیاتی خطرات کی جانچ کو ادارہ جاتی شکل دی جائے گی۔ کلائمیٹ رسک سے آگاہ لاگت و فائدہ تجزیہ، ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن بجٹنگ اور ایڈاپٹیشن فنانس ٹیگنگ جیسے اقدامات فیصلہ سازی کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دیں گے۔

حوصلہ افزا طور پر یہ طریقہ کار پہلے ہی گلگت بلتستان جیسے علاقوں میں نافذ کیا جا رہا ہے جہاں آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام حکومت کے تعاون سے انفراسٹرکچر منصوبوں میں موسمیاتی خطرات کی جانچ کر رہے ہیں۔ یہ ماڈل ملک بھر میں اس طرح کے اقدامات کے فروغ کی مثال فراہم کرتا ہے۔دستاویز میں حالیہ موسمیاتی چیلنجز کا حوالہ دیتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔ 2022 کے سیلاب سے تقریباً 13 ہزار کلومیٹر سڑکیں اور 410 پل تباہ ہوئے جس سے تقریباً 30 ارب ڈالر کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔

2025 کے بعد کے سیلابوں نے بھی ان خطرات کو مزید واضح کیاجن میں ایک ہزار سے زائد اموات ہوئیں اور 10 سے 18 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔پنجاب جو ملک کا سب سے بڑا صوبہ اور زرعی معیشت کی بنیاد ہے، شدید متاثر ہوا جہاں 20 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ زیر آب آیا اور 8,400 دیہاتوں میں 51 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

خیبر پختونخوا میں فلیش فلڈز سے 350 اموات ہوئیں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بھی انفراسٹرکچر، گھروں اور زراعت کو نمایاں نقصان پہنچا۔ان چیلنجز کے باوجود موسمیاتی مزاحم اور کلائمیٹ سمارٹ انفراسٹرکچر پر بڑھتی ہوئی پالیسی توجہ مستقبل کے خطرات کو کم کرنے، روزگار کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے مؤثر راستہ فراہم کرتی ہے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے