اسلام آباد۔6 مئی (اے بی سی):حکومت نے نئے متعارف کرائے گئے پاکستان کلائمیٹ پراسپیریٹی پلان کے تحت 2035 تک چین اور خلیجی ممالک کو زرعی برآمدات دگنی کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس کے لئے موسمیاتی موافق زرعی طریقوں کو اپنایا جائے گا۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق یہ منصوبہ سٹریٹجک تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے جس کے تحت موسمیاتی مزاحمت اور گرین گروتھ اقدامات کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ساتھ مربوط کیا جائے گا تاکہ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا جا سکے، چین کو برآمدات میں اضافہ ہو اور پائیدار سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
منصوبے میں بتایا گیا ہے کہ سی پیک روٹس کے ساتھ موجود اہم انفراسٹرکچر بشمول شاہراہیں، بندرگاہیں اور توانائی کی ترسیلی نظام کو بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لئے اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اس میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا اور گوادر سے منسلک لاجسٹک چینز کی استعداد میں اضافہ شامل ہیں جو دوطرفہ تجارت کے لئے نہایت اہم ہیں۔منصوبے کے تحت پاکستان گوادر پورٹ پر اپنی نوعیت کا پہلا زرعی تجارتی مرکز قائم کرے گا تاکہ سی پیک کی رابطہ کاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکے اور کولڈ چین لاجسٹکس کو بہتر بنایا جا سکے۔حکومت موجودہ خصوصی اقتصادی زونز جن میں سے کئی سی پیک کے تحت قائم کئے گئے ہیں، کو گرین اکنامک زونز میں تبدیل کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔
ان زونز میں صاف توانائی، سرکلر اکانومی کے اصول اور ماحول دوست مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جائے گا تاکہ بین الاقوامی معیارات پر پورا اترتے ہوئے برآمدی مسابقت، خصوصاً چینی منڈی میں بڑھائی جا سکے۔سی پیک کے ساتھ موسمیاتی موافق پالیسیوں کا انضمام نہ صرف اہم سرمایہ کاری کو محفوظ بنائے گا بلکہ پاکستان کو گرین مینوفیکچرنگ اور تجارت کے علاقائی مرکز کے طور پر بھی ابھارے گا۔معاشی راہداریوں کے ساتھ موسمیاتی مزاحمت کو ہم آہنگ کرتے ہوئے ملک کا مقصد نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا، برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور چین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرنا ہے۔
منصوبے کی دیگر اہم جھلکیوں میں 2028 تک گندم، کپاس اور چاول کی بعد از برداشت نقصانات میں 20 فیصد کمی، 2030 تک مؤثر آبپاشی، پانی کی قیمتوں، انٹرکروپنگ اور پریسیژن فارمنگ کے ذریعے زرعی پانی کے استعمال میں 20 فیصد کمی، 2030 تک زرعی جنگلاتی اقدامات کو 50 ہزار ہیکٹر تک وسعت دینا، 2035 تک خراب ہونے والی اشیا کی 50 فیصد برآمدات کو جدید کولڈ چین نیٹ ورکس کے ذریعے منتقل کرنا، 2028 تک باغبانی کی اہم اقسام میں روٹ سٹاک جدت، ماہی گیری کے تحفظ کے لئے بلیو کاربن اقدامات سے نئے آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا،
سالانہ تقریباً 500 ارب روپے کی زرعی سبسڈی کا 30 فیصد بہتر بنانا اور 2030 تک 30 فیصد چھوٹے کاشتکاروں اور زرعی کاروبار کے لئے موسمیاتی خطرات سے متعلق مالیاتی سہولیات بشمول انڈیکس انشورنس، لائیوسٹاک کوریج اور موسمیاتی بنیاد پر قرضوں کی فراہمی شامل ہے۔منصوبے کے مطابق یہ اقدامات موسمیاتی چیلنجز کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ سی پیک کے ارتقائی فریم ورک کے تحت پاکستان اور چین کے سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے۔

