آزاد کشمیر حکومت کا ابتدائی بچپن کی نشوونما پروگرام کو 300 مڈل سکولوں تک توسیع دینے کا فیصلہ

اسلام آباد-22 جون (اے بی سی):آزاد کشمیر حکومت نے تعلیم، غذائیت اور بچوں کی نشوونما سے متعلق خدمات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ابتدائی بچپن کی نشوونما (ای سی ڈی) پروگرام کو 300 مڈل سکولوں تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت آزادکشمیر نے اپنے ترقیاتی وسائل کو ماں اور بچے کی صحت، ابتدائی بچپن کی نشوونما، مویشیوں کی ترقی، زرعی تنوع اور خوراک کے تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر مرکوز کیا ہے۔

300 مڈل سکولوں میں ابتدائی بچپن کی نشوونما پروگرام (فیز تھری) پر عمل درآمد جاری ہے، جس کی مجموعی لاگت 9 کروڑ ایک لاکھ روپے ہے، جبکہ رواں سال کے لیے 4 کروڑ 36 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ پروگرام خطے میں جاری غذائیت سے متعلق متعدد اہم منصوبوں میں شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق، آزاد کشمیر میں ماں، نومولود اور بچے کی صحت (ایم این سی ایچ) خدمات کا منصوبہ بھی جاری ہے، جس کی مجموعی لاگت 39 کروڑ 73 لاکھ روپے ہے، جبکہ اس سال کے لیے 5 کروڑ 91 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔بھیڑ اور بکریوں کی ترقی کا پروگرام 6 کروڑ ایک لاکھ 50 ہزار روپے کی لاگت سے جاری ہے، جس کے لیے 4 کروڑ 58 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

زرعی ماحولیاتی نظام کی بنیاد پر پھلوں، سبزیوں اور زراعت کی کاروباری ترقی کے منصوبے کی مجموعی لاگت 6 کروڑ 48 لاکھ روپے ہے، جبکہ اس سال کے لیے 40 لاکھ 10 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں تین موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریاں قائم کی جا رہی ہیں۔

اس منصوبے کی مجموعی لاگت 10 کروڑ 72 لاکھ روپے ہے، جبکہ 1 کروڑ 82 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔یہ تمام منصوبے آزاد کشمیر کی وسیع تر ترقیاتی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد بچوں کی نشوونما، غذائیت، خوراک کے تحفظ، زراعت اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے