پنجاب میں ڈیری فارمنگ کو جدید بنانے کے لیے ایک ارب روپے کا منصوبہ
لاہور۔21 اکتوبر (اے بی سی):پنجاب حکومت نے صوبے کے تمام 41 اضلاع میں کسانوں کو رعایتی نرخوں پر مشینری اور آلات فراہم کرنے کے لیے ڈیری سپلائی چین سپورٹ منصوبے میں ایک ارب روپے کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد دودھ کی پیداوار میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنا، پیداواری صلاحیت بہتر بنانا اور ڈیری فارمنگ کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔پنجاب ملک میں دودھ اور مویشیوں کی پیداوار کے لحاظ سے سرفہرست صوبہ ہے اور پاکستان کی زرعی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ صوبے کا زرعی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ 62 فیصد اور قومی مجموعی پیداوار میں 14.04 فیصد ہے، جبکہ دودھ اور گوشت کی برآمدات سے زرمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے۔
تازہ ترین زرعی مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق پنجاب میں مویشیوں کی مجموعی تعداد 10 کروڑ 42 لاکھ ہے، جن میں 2 کروڑ 95 لاکھ 60 ہزار بھینسیں، 2 کروڑ 69 لاکھ 70 ہزار گائے اور بیل جبکہ 3 کروڑ 13 لاکھ 10 ہزار بکریاں شامل ہیں۔محکمہ لائیوسٹاک پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل (پروڈکشن) ڈاکٹر محمد نعیم کنور نے کہا کہ دو سالہ منصوبے کا مقصد مشینی طریقوں کے استعمال کے ذریعے انسانی محنت پر انحصار کم کرنا اور پیداوار میں ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کرنا ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بنیادی طور پر کسانوں کو دودھ کی ترسیل کے نظام میں موجود خامیوں اور کولڈ چین کے ناکافی بنیادی ڈھانچے کے باعث ہونے والے نقصانات کم کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔پاکستان میں دودھ کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 74 فیصد پنجاب سے حاصل ہوتا ہے، اس لیے دودھ کو سنبھالنے، محفوظ کرنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے طریقوں میں بہتری خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
تاہم ٹھنڈا رکھنے اور کولڈ چین کی ناکافی سہولیات کے باعث دودھ خراب ہونے اور معاشی نقصانات کا سلسلہ جاری ہے۔ڈاکٹر کنور نے کہا کہ پنجاب میں زیادہ پیداواری صلاحیت، بہتر کارکردگی اور مسابقت رکھنے والے ڈیری شعبے کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں اور مشینی طریقوں کا استعمال اس مقصد کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مجوزہ سکیم کے تحت صوبائی حکومت مشینری کی اہل لاگت پر 60 فیصد رعایت فراہم کرے گی، جبکہ باقی 40 فیصد رقم کسان خود ادا کریں گے۔ ہر مستفید ہونے والے کسان کے لیے سبسڈی کی زیادہ سے زیادہ حد 5 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران منصوبے کے لیے 46 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ باقی فنڈز مالی سال 28۔2027میں سبسڈی کی ادائیگی کے لیے رکھے گئے ہیں۔
دو سالہ مدت کے دوران اس اقدام سے 6,400 کسانوں کو فائدہ پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔سکیم میں لائیوسٹاک اور ڈیری مشینری کی 11 اقسام شامل ہیں، جن کا مقصد دودھ کی پیداوار، اسے سنبھالنے، پراسیسنگ اور ذخیرہ کرنے کے طریقوں کے ساتھ فارم کے مجموعی انتظام کو بہتر بنانا ہے۔ان آلات میں سنگل اور ڈبل کلسٹر دودھ دوہنے والی مشینیں، بیک وقت چار جانوروں کا دودھ دوہنے والا بکٹ ملکنگ سسٹم، 50 لیٹر گنجائش والے دودھ ٹھنڈا رکھنے کے کین، دہی بنانے کے لیے 160 سے 200 لیٹر گنجائش والے دودھ گرم کرنے کے ٹینک، ملک چلرز، مکھن بنانے والی مشینیں، نیم خودکار پیکنگ مشینیں، وزن کرنے کے ترازو، 13 ٹن گنجائش والی ٹوٹل مکسڈ راشن (ٹی ایم آر) چارہ تیار کرنے اور تقسیم کرنے کی ویگنیں اور مویشیوں کو قابو میں رکھنے کے مشینی آلات شامل ہیں۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ جدید آلات تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کے علاوہ منصوبے کے تحت کسانوں اور متعلقہ عملے کے لیے تربیتی پروگراموں اور تکنیکی معاونت کے ذریعے ڈیری فارموں کے انتظام کو زیادہ مؤثر بنانے کا بھی تصور پیش کیا گیا ہے۔
ضلعی سطح پر فیصل آباد کے لیے سب سے زیادہ تعداد مختص کیے جانے کی توقع ہے، جہاں منصوبے کی مدت کے دوران زیادہ سے زیادہ 335 کسان مستفید ہو سکیں گے۔ رحیم یار خان میں زیادہ سے زیادہ 322 اور بہاولنگر میں 284 کسانوں کے لیے گنجائش رکھی گئی ہے۔ اسی طرح سرگودھا میں 270 اور اوکاڑہ میں 267 کسانوں کو فائدہ پہنچانے کا تخمینہ ہے۔لاہور میں دو سالہ مدت کے دوران 138 کسانوں کے لیے گنجائش مختص کی گئی ہے، جبکہ مری میں سب سے کم، یعنی زیادہ سے زیادہ 10 کسانوں کو فائدہ پہنچانے کی تجویز ہے ۔
ڈاکٹر کنور نے کہا کہ مجوزہ طریقہ کار کے تحت کسان تحصیل کی سطح پر درخواستیں جمع کرائیں گے۔ درخواستوں کی جانچ پڑتال کے بعد اہل امیدواروں کا انتخاب ضلعی سطح پر الیکٹرانک قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا۔منصوبے کے تحت مشینری کی تکنیکی خصوصیات کو حتمی شکل دینے، سپلائرز کی ابتدائی اہلیت جانچنے، معائنہ کرنے اور عمل درآمد میں شامل متعلقہ فریقین کی تکنیکی صلاحیت بڑھانے کے لیے مشیروں کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی۔اس اقدام کی وسیع تر معاشی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر کنور نے کہا کہ ڈیری فارمنگ لاکھوں دیہی گھرانوں کے لیے خوراک، روزگار اور آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
یہ شعبہ خوراک کی پراسیسنگ کی صنعت کو خام مال بھی فراہم کرتا ہے اور قومی معیشت میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے۔پنجاب میں بہت سے کاشتکار خاندانوں کے لیے دودھ کی فروخت سال بھر باقاعدہ آمدن کا ذریعہ ہے، جبکہ گائے اور بھینسیں گھریلو سطح پر قیمتی اثاثوں کی حیثیت رکھتی ہیں اور زرعی زمین کے لیے گوبر کی کھاد بھی فراہم کرتی ہیں۔ڈاکٹر کنور نے کہا کہ چونکہ پنجاب میں زیادہ تر مویشی چھوٹے اور محدود وسائل رکھنے والے کسانوں کی ملکیت ہیں، اس لیے توقع ہے کہ یہ دو سالہ منصوبہ انہیں معاشی طور پر زیادہ بااختیار بنانے میں مدد دے گا۔
