تحریر: نوید قریشی
1984 میں جیمز کیمرون نے فلم The Terminator میں ایک ایسی مصنوعی ذہانت کا تصور پیش کیا جو انسان کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھ کر اس کے خلاف جنگ شروع کر دیتی ہے، فلم کا پہلا منظر لاس اینجلس 2029 دکھایا گیا ہے۔ اس وقت 2029 بہت دور کا مستقبل لگتا تھا۔
آج ہم 2026 میں ہیں اور 2029 اب صرف تین سال دور ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج مصنوعی ذہانت، خودکار نظام اور انسان نما روبوٹس یعنی ہیومونائیڈ محض فکشن نہیں بلکہ حقیقت بن چکے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ Terminator میں دکھائی گئی دنیا بالکل اسی طرح وجود میں آ رہی ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ AI کو فوج، انٹیلی جنس اور فیصلہ سازی میں شامل کرنے کے بعد انسان اپنے بنائے ہوئے نظام پر کس حد تک کنٹرول برقرار رکھ سکے گا؟ کیا AI کو فوجی نظام کا مستقل حصہ بنانے کا عمل اب عملی سطح پر شروع ہو چکا ہے؟ اور کیا AI انسانوں کو ختم کر سکتا ہے؟
28 جولائی 2026 کو امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر فوجی مصنوعی ذہانت کے لیے پہلی دوطرفہ ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا جس کا نام Task Force Talon Synapse ہے۔
ایڈمرل کوپر نے اسے تاریخی سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد جنگجوؤں تک جدید AI ایپلیکیشنز کو تیزی سے پہنچانا ہے۔ یہ ٹاسک فورس ابوظہبی میں قائم کی گئی ہے اور اس میں تقریباً 20 امریکی اور اماراتی ماہرین شامل ہیں جن کا تعلق AI، ڈیٹا اور سائبر سیکیورٹی سے ہے۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق یہ تین شعبوں پر کام کرے گی: انٹیلیجنس سپورٹ، اہم تنصیبات کا تحفظ اور علاقائی سلامتی کی نگرانی۔
عسکری نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اب تک فوجی طاقت کا پیمانہ ٹینک، جہاز اور میزائل تھا، اب فوجی طاقت کے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت بھی عسکری صلاحیت کا اہم عنصر بنتی جا رہی ہے۔
27 سالہ برطانوی ریسرچر جیکب کوکسن جو OpenAI اور Anthropic دونوں میں پری ٹریننگ ریسرچ کر چکے ہیں، نے 9 ستمبر 2026 کو X پر مستعفی ہوتے ہوئے لکھا: "دونوں کمپنیاں ذمہ داری سے کام نہیں کر رہیں، وہ خود کو بہتر بنانے والی سپر انٹیلیجنس کی طرف دوڑ رہی ہیں اور ہماری زندگیوں سے جوا کھیل رہی ہیں۔”
جیکب نے ایک حالیہ Hugging Face سے جڑے واقعے کو Warning Shot قرار دیا جہاں ٹیسٹ کے دوران AI ایجنٹس نے غیر متوقع رویہ اپنایا۔ ان کے بیان کے فوراً بعد Anthropic کے Alignment Science Lead ایون ہیوبنگر نے بھی ایک انتہائی سنگین خدشے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا: "جیکب بالکل درست ہے، ہم سچ میں مانتے ہیں کہ AI تمام انسانوں کو مار سکتی ہے، میں اگلی دہائی میں اس کا خطرہ 10 فیصد سے زیادہ سمجھتا ہوں، اور ہمارے پاس ابھی تک اسے روکنے کا کوئی واضح پلان نہیں ہے۔”
ویٹیکن کے پوپ لیو پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں۔ 28 اگست 2026 کو انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا: "ایک سنگین مسئلہ یہ ہے کہ انسانی زندگی سے متعلق فیصلے مشینوں کے سپرد کیے جا رہے ہیں۔ AI کی رفتار دیکھ کر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مستقبل میں ہم ان مشینوں کو قابو میں رکھ پائیں گے؟”
پاکستان نے بھی اسی خطرے کی نشاندہی کی ہے۔ 30 مئی 2026 کو لیفٹیننٹ جنرل نعمان زکریا (کمانڈر 1 کور اور کمانڈر آرمی راکٹ فورس کمانڈ) نے سنگاپور میں شنگری لا ڈائیلاگ میں کہا کہ AI سسٹمز میدانِ جنگ میں انسانی حکمتِ عملی Observe, Orient, Decide, Act) OODA) لوپ کو بائی پاس کر دیتے ہیں۔ اس سے وقت اتنا کم رہ جاتا ہے کہ دوسرا فریق صحیح طرح سوچ بھی نہیں پاتا، کنفیوژن پیدا ہوتی ہے اور لوگ گھبراہٹ میں غلط اور بہت سخت فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔
یہی مؤقف 24 ستمبر 2026 کو پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں دہرایا، کہ AI کو ہتھیاروں کی دوڑ کا نیا پہلو نہیں بننا چاہیے۔
خلاصہ یہ کہ 42 سال پہلے بننے والی فلم کا بنیادی خدشہ اب محض فکشن نہیں رہا؛ اس سے متعلق کچھ اہم سوالات حقیقی دنیا میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
