تحریر ۔ ڈاکٹر عمر ایچ اوبا (پاکستان میں ایتھوپیا کے سفیر)
3 اگست 2026ء کو ایتھوپیا میں ہر پانچ میں سے تقریباً ایک شہری نے اپنی روزمرہ مصروفیات ترک کرتے ہوئے ہاتھ میں بیلچا تھام کر شجرکاری کی قومی مہم میں حصہ لیا۔ وزیر ہو یا سفارت کار، کسان ہو یا طالب علم، ہر شخص مستقبل کی نسلوں کے روشن، سرسبز اور محفوظ مستقبل کے لئے پودے لگانے کیلئے میدان میں اتر آیا
سرکاری اندازے کے مطابق وفاقی جمہوریہ ایتھوپیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ایک روزہ شجرکاری مہم میں 2 کروڑ 60 لاکھ سے زائد افراد نے حصہ لیا۔ دن کے اختتام تک شرکاء نے 80 کروڑ ننھے پودے لگا دیئے۔ دنیا کے کسی ملک نے ایک ہی دن میں اتنیف بڑی تعداد میں درخت لگانے کا اعزاز حاصل نہیں کیا۔
یہ کوشش کسی وقتی جوش و جذبے کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ گرین لیگیس انیشی ایٹو کا حصہ ہے جس کا آغاز 2019ء میں ایتھوپیا کے وزیراعظم عزت مآب ڈاکٹر ابی احمد نے شجرکاری اور جنگلات کی بحالی کی کوششوں کو تیز کرنے، غذائی تحفظ کے حصول، زمین کے انحطاط کو روکنے اور سبز معیشت کے فروغ کے مقصد سے کیا تھا۔
وزارت زراعت کے مطابق پہلا ہدف چار ارب پودے لگانے کا مقرر کیا گیا تھا تاہم ایتھوپیا نے یہ ہدف عبور کرتے ہوئے 4.7 ارب پودے لگا دیئے جن میں ایک ہی روز میں لگائے گئے 35 کروڑ پودے بھی شامل تھے۔ اس کے بعد ہر سال شجرکاری کا ہدف مزید بلند ہوتا گیا اور درخت لگانا ایتھوپیائی قوم کی شناخت اور طرز زندگی کا حصہ بنتا چلا گیا۔
یہ اعداد و شمار بظاہر ناقابل یقین محسوس ہوتے ہیں لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہیں۔ 2020ء میں جب دنیا میں کورونا کی وباء پھیل رہی تھی، ایتھوپیا نے اس کے باوجود 5.9 ارب پودے لگائے۔ اگلے سال یہ تعداد بڑھ کر 6.8 ارب ہو گئی جبکہ 2022ء میں 7.2 ارب پودے لگائے گئے۔ اس دوران یہ مہم محض درخت لگانے تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے قدرتی مناظر اور ماحولیاتی نظام کی بحالی تک وسعت اختیار کر گئی۔ وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق 2023ء اور 2024ء دونوں برسوں میں شجرکاری کا حجم 7.5 ارب پودے تک پہنچ گیا جس کے نتیجے میں لگائے گئے درختوں کی مجموعی تعداد 32 ارب سے تجاوز کر گئی ہے۔
یہ محض پودے لگا کر بارش کے انتظار میں بیٹھ جانے کا معاملہ نہیں۔ زمین میں لگائے جانے والے پودوں میں 57 فیصد مقامی اقسام کے درخت اور پھلدار پودے شامل ہیں تاکہ مقامی آبادی نہ صرف ان سے ماحولیاتی فوائد حاصل کرے بلکہ انہیں معاشی آمدنی کا ذریعہ بھی بنا سکے۔ یہ درخت سایہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مٹی کو مضبوطی سے تھام کر زمین کے تحفظ کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
اس کے علاوہ 85 فیصد پودے زندہ رہتے ہیں اور یہ اعداد و شمار محض کاغذوں پر درج نہیں بلکہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے یقینی بنائے جاتے ہیں۔ شجرکاری کے تمام مقامات میں سے نصف کو جی پی ایس کے ذریعے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ 2025ء کا ہدف مجموعی تعداد کو 40 ارب درختوں سے آگے لے جانا تھا جبکہ 2026ء کے لئے ایک ہی سال میں 8 ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اب تک ایتھوپیا 48 ارب سے زائد پودے لگا چکا ہے اور اس کے اثرات نمایاں طور پر نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ 2019 میں جب اس اقدام کا آغاز ہوا تھا، ایتھوپیا کے 17.2 فیصد رقبے پر جنگلات موجود تھے۔ وزارتِ زراعت کے مطابق 2023 تک یہ شرح بڑھ کر 23.6 فیصد ہو گئی تھی۔
ایک ایسے ملک کے لیے جو طویل عرصے سے خشک سالی اور بدلتے ہوئے موسمی حالات سے متاثر رہا ہے، یہ بڑھتے ہوئے جنگلات محض ایک پالیسی نہیں بلکہ ایک محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھنے کی کوشش ہیں، ایسا مستقبل جس میں آج درخت لگانے والوں کے بچے زندگی گزاریں گے اور تازہ ہوا میں سانس لیں گے۔
تاہم اصل اور زیادہ مشکل کام اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہجوم اپنے گھروں کو واپس چلا جاتا ہے۔ زمین میں لگایا گیا ایک پودا صرف ایک وعدہ ہوتا ہے، وہ اس وقت جنگل کی صورت اختیار کرتا ہے جب اسے پانی دیا جائے، چرنے والے جانوروں سے محفوظ رکھا جائے اور برسوں تک اسے قائم رہنے دیا جائے۔ یہ کام قومی شجرکاری کے دن کے مقابلے میں زیادہ خاموش اور کہیں زیادہ طویل ہوتا ہے لیکن اس پروگرام کی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی لوگوں کی عادات میں تبدیلی ہے۔
درخت لگانا اب محض پالیسی کے حاشیے پر موجود ایک اقدام نہیں رہا بلکہ قومی روایت کے قریب پہنچ چکا ہے جسے ہر سال کروڑوں افراد، کابینہ کے وزراء سے لے کر اسکول کے بچوں تک دہراتے ہیں۔ بہت کم ممالک ایسے ہیں جنہوں نے اپنے اتنے زیادہ شہریوں کو اتنے طویل عرصے تک کسی ایک ماحولیاتی کوشش میں شریک ہونے پر آمادہ کیا ہو اور اس سے بھی کم ممالک ایسے ہیں جنہوں نے ہر بار اپنا ہدف مزید بلند کیا ہو۔
شاید یہی اس مہم کی حقیقی میراث ہے، کوئی ایک ریکارڈ ساز دن نہیں بلکہ یہ سوچ کہ قدرتی ماحول کی بحالی ایک معمول کا کام ہے جو ہر شخص تھوڑا تھوڑا کرکے انجام دیتا ہے۔ ایتھوپیا گزشتہ سات برسوں سے ایک ایسی بنیاد قائم کرنے کے لیے شجرکاری کر رہا ہے جو نہ صرف اپنے شہریوں بلکہ پورے افریقہ اور دنیا کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کرے گی۔
اس کامیابی کا فیصلہ سرکاری حکام یا ان کے اعداد و شمار نہیں کریں گے بلکہ وہ نسل کرے گی جو ان جنگلات میں چلے گی، صاف اور تازہ ہوا میں سانس لے گی اور ان تناور درختوں کے پھلوں سے فائدہ اٹھائے گی

