خاموش مگر سنگین مرض، بروقت تشخیص اور مناسب علاج نہ ہونے پر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی

خاموش مگر سنگین مرض، بروقت تشخیص اور مناسب علاج نہ ہونے پر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی
اسپیکر قومی اسمبلی

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ہیپاٹائٹس ایک خاموش مگر سنگین مرض ہے جو بروقت تشخیص نہ ہونے، احتیاط نہ برتنے اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں انسانی جان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری کی مؤثر روک تھام اور بروقت تشخیص کو یقینی بنانا، معیاری علاج کی فراہمی اور عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنا حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا، جو ہر سال 28 جولائی کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ عالمی یومِ ہیپاٹائٹس منانے کا مقصد ہیپاٹائٹس سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا، بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، محفوظ طبی طریقۂ کار کو فروغ دینے، اسکریننگ میں اضافہ کرنے اور بروقت علاج کی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنانے سے ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ پر مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکتا ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے ’’پرائم منسٹر ہیپاٹائٹس سی پروگرام‘‘ کو سراہتے ہوئے اسے صحتِ عامہ کے تحفظ کے لیے ایک قابلِ تحسین اور بروقت اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام حکومت کے ہیپاٹائٹس سی کو 2030ء تک ختم کرنے کے
عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت کی ان مؤثر کاوشوں سے ہیپاٹائٹس کے مرض کے خاتمے میں نمایاں پیش رفت ہوگی۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے حکومتِ پاکستان کی جانب سے نومولود بچوں کی ویکسی نیشن، ملک گیر آگاہی مہمات، اور تعلیمی اداروں و ذرائع ابلاغ کے ذریعے آگاہی کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی مراکزِ صحت اور دیہی مراکزِ صحت بھی عوام میں شعور اجاگر کرنے اور ویکسی نیشن کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمان صحتِ عامہ کے شعبے کو مضبوط بنانے، بیماریوں کی روک تھام، احتیاطی تدابیر کے فروغ اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مؤثر قانون سازی کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں، طبی ماہرین، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ اور تعلیمی اداروں کو مل کر عوام میں ہیپاٹائٹس سے متعلق شعور اجاگر کرنے اور اس بیماری کے خاتمے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

Related Post