تحریر: نوید قریشی
سادہ لفظوں میں ذہنی ارتقا یہ ہے کہ انسان سنی سنائی پرانی باتوں پر اندھی تقلید کے بجائے سوال پوچھنے لگے۔ وہ ان موضوعات پر بھی گفتگو کرے جنہیں پہلے گناہ یا ممنوع سمجھا جاتا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر وہ ہر چیز کو دلیل، شعور اور احترام کے ساتھ پرکھے۔
اگر یہ تعریف مان لی جائے تو ماننا پڑے گا کہ سوشل میڈیا نے پچھلے دس سال میں ذہنی ارتقا کے عمل کو بے پناہ وسعت دی ہے۔ آج مذہب، سیاست، جنس، معاشرت، ہر موضوع زیرِ بحث ہے۔ جو سوال پہلے "گناہ” یا "گستاخی” سمجھے جاتے تھے، وہ اب کھل کر پوچھے جا رہے ہیں۔ یوٹیوب پر، ٹک ٹاک پر، ایکس اور فیس بک پر ہزاروں انفلوئنسر بیٹھے ہیں جو پرانے عقائد، روایات اور سیاسی بیانیوں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ وہ اسے ذہنی ارتقا کا نام دیتے ہیں۔ جو کسی حد تک درست بھی ہے۔
کیونکہ سوال کا دروازہ بند کر دینا سب سے بڑی جہالت ہے۔ جب تک ہم سوال نہیں کریں گے، ہم سمجھیں گے نہیں اور جب تک ہم سمجھیں گے نہیں، ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ اس لیے سوال کرنا ذہنی ارتقا کی پہلی سیڑھی ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم نکتہ ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کیا ہر سوال ذہنی ارتقا ہے؟ کیا ہر بحث شعور ہے؟ کیا ہر حد توڑنا ترقی ہے؟ جواب نفی میں ہی ہوگا۔
میرے خیال میں اصل ذہنی ارتقا تب ہوتا ہے جب سوال کرنے والے کی نیت، سچ کی تلاش ہو، نہ کہ صرف بحث برائے بحث یا بغض۔ اور اس بحث میں علم ہو، دلیل ہو اور سامنے والے کے لیے احترام ہو۔ جب مقصد کسی نظریے کو سمجھنا ہو، نہ کہ اس کا رد یا مذاق بنانا۔ اگر سوال کا مقصد یہ جتلانا ہے کہ دیکھو میں تم سے کتنا مختلف ہوں، تو یہ ارتقا نہیں، یہ خود پسندی اور خودنمائی ہے۔
سوشل میڈیا کا دوسرا رخ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ یہاں ہر سوال علم سے نہیں آتا۔ بہت سے سوال محض اختلاف کی وجہ سے، بہت سے توجہ حاصل کرنے کے لیے اور کچھ کنفیوژن سے بھی آتے ہیں۔ کچھ لوگ سماجی اور مذہبی حدود توڑنے کو ہی ذہنی ارتقا سمجھ بیٹھے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ جو چیز پہلے منع تھی اسے کر لینا یا اس پر آواز اٹھا دینا ہی ترقی ہے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ارتقا کا مطلب انکار نہیں، فہم ہے۔
بغیر علم کے بحث ذہنی ارتقا نہیں، ذہنی انتشار پیدا کرتی ہے۔ سرسری علم، بلا تحقیق گفتگو، اور سامنے والے کو سننے کا حوصلہ نہ ہو، تو بحث مکالمہ نہیں شور بن جاتی ہے۔ اور شور سے معاشرے آگے نہیں بڑھتے، وہ مزید تقسیم ہو جاتے ہیں۔
ذہنی ارتقا کا مطلب یہ بھی نہیں کہ جو چیز کل تک گناہ تھی آج وہ ثواب یا نارمل ہو گئی ہے۔ ارتقا کا مطلب یہ ہے کہ ہم اب چیزوں کو سمجھ کر، دلیل کے ساتھ، شعور کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ فرق بہت باریک لیکن بنیادی ہے۔ مثال کے طور پر مذہب پر سوال کرنا ارتقا ہے، لیکن مذہب کا مذاق اڑانا ارتقا نہیں۔ سیاست پر تنقید کرنا ارتقا ہے، لیکن نفرت اور گالی کی سیاست ارتقا نہیں۔ معاشرتی مسائل پر بات کرنا ارتقا ہے، لیکن ہر روایت کو پرانی، فرسودہ، دقیانوسی سوچ کہہ کر رد کر دینا ارتقا نہیں۔
ارتقا انسان کو سوال پر ابھارتا ہے بدتمیزی پر نہیں۔ اختلاف رکھیں دشمنی نہیں۔ پرانی باتوں کو پرکھیں، لیکن اس میں چھپی حکمت کو ایک ہی جھٹکے میں مسترد مت کریں۔ اچھی اور نئی باتوں کو اپنائیں، لیکن اس کی اندھی تقلید مت کریں۔
ہمارے معاشرے کو اسی ارتقائی توازن کی ضرورت ہے۔ جہاں سوال کرنے والا جواب سننے کا بھی حوصلہ رکھے۔ دلیل کا جواب دلیل سے ہو۔ سماجی و مذہبی روایات پر تنقید کرتے وقت ادب و احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
ورنہ ہم ایک انتہا سے دوسری انتہا پر جا گریں گے۔ یا تو ہم سوال کرنے سے ڈر کر جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ یا پھر ہم سوال کے نام پر ہر حدود کو توڑ باہمی انتشار کا شکار ہو جائیں گے۔ اور یہ دونوں صورتیں ذہنی ارتقا کے خلاف ہیں۔
سوال کرنا ذہنی ارتقا کی شروعات ہے، لیکن صحیح سوال اور صحیح نیت، یہی اصل ارتقا ہے۔ سوال پوچھیں۔ ضرور پوچھیں۔ لیکن پوچھتے وقت خود سے یہ بھی پوچھیں کہ میں یہ سوال کیوں پوچھ رہا ہوں؟ کیا میں جواب سننے کے لیے تیار ہوں؟ کیا میرا ذہن سچ کی تلاش میں ہے یا اس میں صرف شور مچانے کی خواہش ہے؟
کیونکہ ذہنی ارتقا کا سفر سوال سے شروع ہوتا ہے، لیکن ختم فہم پر ہوتا ہے اور فہم کے بغیر ہر سوال صرف ایک شور ہے۔
