ہیمل فارماسیوٹیکلز کے زیر اہتمام کینسر کے علاج میں جدید تحقیق اور جدید تھراپیز پر قومی کانفرنس کا انعقاد

لاہور۔13جون  (اے پی پی):پاکستان میں کینسر کے علاج کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے اور عالمی تحقیق کو مقامی طبی عمل میں شامل کرنے کے لیے معروف دوا ساز ادارے ہیمل فارماسیوٹیکلز کے زیر اہتمام”Molecules to Miracles 2.1″ کے عنوان سے ایک اہم سائنسی قومی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی،جس میں ملک بھر سے ممتاز آنکولوجسٹس، ہیماٹولوجسٹس، ماہرینِ طب اور کینسر کے شعبے سے وابستہ سینئر ڈاکٹرز نے شرکت کی جبکہ اس موقع پر6 عدد جدید ٹارگٹڈ تھراپی میڈیسن بھی لانچ کی گئیں۔کانفرنس میں چھاتی کے کینسر، پھیپھڑوں کے کینسر، معدے اور آنتوں کے سرطان سمیت خون کے مختلف مہلک امراض کے علاج میں ہونے والی جدید پیش رفت، ٹارگٹڈ تھراپیز،پریسیژن میڈیسن،مالیکیولر ڈائیگناسٹکس اور نئی علاجی حکمت عملیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔افتتاحی خطاب کرتے ہوئے جناح ہسپتال لاہور کی سربراہ شعبہ آنکولوجی پروفیسر ڈاکٹر کوثر بانو اور پروفیسر عباس کھوکھر نے کہا کہ جدید سائنسی تحقیق کو روزمرہ طبی عمل کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے سائنسی فورمز نہ صرف معیاری علاج کے فروغ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بلکہ مریضوں کو جدید اور موثر علاج تک رسائی بھی فراہم کرتے ہیں۔ہیمل فارماسیوٹیکلز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان امین بٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کینسر کے علاج کا شعبہ تیزی سے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے،جہاں پریسیژن میڈیسن،مالیکیولر ٹیسٹنگ اور جدید ٹارگٹڈ ادویات علاج کے نتائج کو بہتر بنا رہی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ادارہ عالمی طبی تحقیق اور مقامی طبی مہارت کے درمیان مضبوط رابطہ قائم رکھنے کیلئے ایسے سائنسی پلیٹ فارمز کا انعقاد جاری رکھے گا۔کانفرنس کے دوران ماہرین نے بریسٹ کینسر، لنگ کینسر، گیسٹرو انٹیسٹائنل کینسرز، ایکیوٹ مائیلائڈ لیوکیمیا، کرونک مائیلائڈ لیوکیمیا اور کرونک لیمفوسائٹک لیوکیمیا کے علاج میں نئی ادویات اور جدید علاجی طریقہ کار پر سائنسی تحقیقی نتائج پیش کئے۔مقررین کا کہنا تھا کہ جدید ٹارگٹڈ تھراپیز اور شواہد پر مبنی علاجی حکمت عملی مستقبل میں کینسر کے مریضوں کیلئے بہتر نتائج اور طویل مدتی فوائد کا باعث بنیں گی۔ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرینِ امراضِ سرطان اور خون کے امراض نے کانفرنس میں شرکت کی اور جدید تحقیق، علاج اور مریضوں کی نگہداشت سے متعلق اپنے تجربات اور آرا کا تبادلہ کیا۔کانفرنس کے اختتام پر ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں کینسر کے علاج کا مستقبل جدید تحقیق،باہمی تعاون، پریسیژن میڈیسن اور مسلسل سائنسی تربیت سے وابستہ ہے۔ شرکا کا کہنا تھا کہ جدید سائنسی ترقی اور نئی علاجی سہولیات کے ذریعے کینسر کے مریضوں کیلئے امید اور بہتر معیارِ زندگی کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے