وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی سے متعلق جاری بحث میں چند اہم حقائق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جنہیں سامنے رکھنا ضروری ہے تاکہ صورتحال کو درست تناظر میں سمجھا جا سکے۔جاری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ ہائی سپیڈ ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی آج بھی اس سطح سے کم ہے جو خلیجی بحران سے قبل نافذ تھی۔ ان کے مطابق بین الاقوامی منڈی میں گزشتہ چند ماہ کے دوران ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث حکومت نے عارضی طور پر پٹرولیم لیوی میں کمی کی تھی تاکہ اس اضافے کا پورا بوجھ ٹرانسپورٹرز، کسانوں اور ڈیزل استعمال کرنے والے دیگر شعبوں پر منتقل نہ ہو۔خرم شہزاد نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قومی اسمبلی سے منظور شدہ رواں مالی سال کے محصولات کے تخمینے پٹرول اور ڈیزل دونوں پر اوسطاً 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی کی بنیاد پر مرتب کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان محصولات کے اہداف کا حصول بجٹ میں مختص اخراجات کی تکمیل اور مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لئے ناگزیر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب جبکہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بتدریج کمی آ رہی ہے، مالیاتی ذمہ داری اور دانشمندانہ پالیسی کا تقاضا ہے کہ پٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار اس سطح کی جانب بحال کیا جائے جو بجٹ میں مقرر کی گئی تھی، نہ کہ عارضی ریلیف کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھا جائے۔مشیر وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ اگر عارضی ریلیف کو مستقل شکل دی گئی تو محصولات میں کمی واقع ہوگی جس سے مالیاتی خسارہ بڑھنے کا خدشہ ہے اور اس کے منفی اثرات بالآخر قومی معیشت اور عوام دونوں کو برداشت کرنا پڑیں گے۔انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حالیہ ردوبدل کو کسی نئے یا غیر متوقع ٹیکس کے نفاذ کے طور پر نہیں بلکہ عارضی طور پر کم کی گئی پٹرولیم لیوی کی تدریجی بحالی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے جو مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کے لئے ضروری اقدام ہے
حالیہ ردوبدل نیا ٹیکس نہیں، عارضی طور پر کم کی گئی پٹرولیم لیوی کی مرحلہ وار بحالی ہے، مشیر خزانہ خرم شہزاد

