حافظ نعیم نے 9 اگست کو وزیراعلیٰ پنجاب اور گورنر ہاؤسز کے باہر دھرنوں کا اعلان واپس لے لیا
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم نے 9 اگست کو ملک بھر میں دھرنوں کا اعلان واپس لیتے ہوئے 16 اگست 2026 کی نئی تاریخ کا اعلان کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی زیر صدارت دھرنوں کے حوالے سے خصوصی اجلاس ہوا جس کے بعد ویڈیو بیان بھی جاری کیا گیا۔
اجلاس میں نائب امراء لیاقت بلوچ ، اسامہ رضی ،قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ، سید وقاص انجم جعفری، اظہر اقبال حسن، رسل خان بابر، جاوید قصوری ، ضیا ءالدین انصاری نے شرکت کی۔
خصوصی اجلاس میں تمام صوبہ جات اور بڑے شہروں کے امرا وڈیو لنک پر شریک ہوئے۔
حافظ نعیم کی زیر صدارت اجلاس میں یوم آزادی کی تقریبات کو بھرپور انداز میں منانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ یوم آزادی کی وجہ سے دھرنے 9 اگست کے بجائے 16 اگست کو کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
شرکا سے گفتگو میں حافظ نعیم نے کہا کہ 16 اگست کو چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنے دیں گے، یوم آزادی کا جشن بھی منائیں گے جس کے بعد 16 اگست کو ملک بھر میں دھرنوں کا آغاز ہو گا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر لاکھوں کارکنوں کے ساتھ دھرنا دیں گے جبکہ کے پی کے، سندھ اور بلوچستان میں گورنر ہاؤسز پر دھرنے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو جبر اور ظلم بند کرنا ہو گا،دھرنوں سے حکمرانوں کو پیچھے ہٹائیں گے، گزشتہ روز ہم نے منظم طریقے سے 510 مقامات پر مظاہرے کیے، جس میں پورے پاکستان کی آواز تھی کہ لیوی ختم اور پٹرول سستا کیا جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے آئی پی پیز کے خلاف آواز اٹھائی تو حکمرانوں سے اپنے مطالبات منوائے۔ حافظ نعیم نے پاکستان ، ترکیہ اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ معاہدے سے ہمارا دشمنوں پر جو انحصار تھا وہ ختم ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدے میں قطر، بنگلہ دیش،ایران، ملائشیا اور انڈونیشیا کو بھی شامل کیا جائے، تمام اسلامی ممالک اس معاہدے میں شامل ہوں گے مضبوط تو بلاک بنے گا۔
