نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق اہم بیان
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق اہم بیان
"مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” (مکہ معاہدے) کے بارے میں گزشتہ دو روز سے جاری بحث اور دلچسپی کے پیشِ نظر، اس معاہدے سے متعلق درج ذیل پس منظر اور وضاحت سب کے لیے مفید ہو سکتی ہے. مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے جمعہ، 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ طور پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کا عکاس کرتا ہے۔ مکہ معاہدہ کئی برس سے جاری بات چیت اور باہمی رابطوں کا نتیجہ ہے۔ اس کا مقصد امن و سلامتی کے مختلف چیلنجوں سے نمٹنے اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ مکہ معاہدہ اِن ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کسی بھی دوطرفہ یا کئی فریقوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کو منسوخ نہیں کرتا اور نہ ہی اس کی جگہ لیتا ہے۔ اسی طرح، یہ ان ممالک کے دیگر ملکوں یا تنظیموں کے ساتھ موجود معاہدوں کو بھی متاثر نہیں کرتا۔ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی بیرونی مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ اصول اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق کے مطابق ہے۔ مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔ یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے اور اس کا واحد مقصد وسیع تر خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے جاری کوششوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ مکہ معاہدہ خطے کے ہر اُس ملک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنے اور اختلافات کو باہمی احترام، تعاون اور پُرامن طریقوں سے حل کرنے کے لیے تیار ہو۔ مکہ معاہدہ ہماری خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہے۔ پاکستان خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے تمام برادر ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کا خواہش مند ہے۔ ہم تمام تنازعات کے پُرامن حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے اور اپنے عوام کے لیے زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے عزم پر قائم ہیں۔
