خیبرپختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ آبپاشی نظام کی بحالی پر 13 ارب روپے خرچ کئے گئے ، ویلتھ پاکستان
اسلام آباد،19 اگست (اے بی سی): خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں سیلاب سے متاثرہ آبپاشی نہروں، نکاسی آب کے نظام اور سیلاب سے بچاؤ کے ڈھانچوں کی بحالی پر اب تک 12 ارب 98 کروڑ 40 لاکھ روپے خرچ کئے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری ایمرجنسی فلڈ اسسٹنس پراجیکٹ کے تحت مجموعی طور پر 143 ترقیاتی کام شامل ہیں جن میں 79 آبپاشی، ہیڈ ورکس اور نکاسی آب کی سکیمیں جبکہ 64 سیلاب سے بچاؤ کے منصوبے شامل ہیں۔
منصوبے کے تحت 91.40 کلومیٹر آبپاشی نہروں، 262 کلومیٹر نالوں اور سیلابی پانی کی گزرگاہوں اور 67.90 کلومیٹر سیلاب سے بچاؤ کے انفراسٹرکچر کی بحالی کی جا رہی ہے۔محکمہ آبپاشی اس منصوبے پر سوات، مالاکنڈ، چارسدہ، نوشہرہ، پشاور، دیر، چترال، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں عملدرآمد کر رہا ہے۔
دستاویزات میں دیئے گئے مالی اعداد و شمار کے مطابق منصوبے کے غیر ملکی مالی معاونت کے حصے کی مالیت 13 ارب 20 کروڑ روپے ہے جس میں سے اب تک 12 ارب 69 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔مقامی مالی معاونت کا حصہ ایک ارب 80 کروڑ روپے ہے جس میں سے اب تک 29 کروڑ 10 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں۔دونوں حصوں کو ملا کر منصوبے کی مجموعی لاگت 15 ارب روپے بنتی ہے جبکہ اب تک مجموعی اخراجات 12 ارب 98 کروڑ 40 لاکھ روپے تک پہنچ چکے ہیں جو دستیاب مالی وسائل کے بڑے حصے کے استعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔ترقیاتی کاموں کی تقسیم کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سرکل میں آبپاشی، ہیڈ ورکس اور نکاسی آب کے سب سے زیادہ 66 منصوبے شامل ہیں جبکہ اس سرکل کے لئے سیلاب سے بچاؤ کا کوئی الگ منصوبہ درج نہیں کیا گیا۔ڈیرہ اسماعیل خان کے بعد سوات میں سب سے زیادہ 38 منصوبے شامل ہیں جن میں آبپاشی، ہیڈ ورکس اور نکاسی آب کی سات سکیمیں اور سیلاب سے بچاؤ کے 31 منصوبے شامل ہیں۔پشاور سرکل میں مجموعی طور پر 16 منصوبے شامل ہیں جن میں آبپاشی، ہیڈ ورکس اور نکاسی آب کی پانچ سکیمیں اور سیلاب سے بچاؤ کے 11 منصوبے شامل ہیں۔ صوابی میں 11 منصوبے ہیں جن میں ایک آبپاشی سے متعلق سکیم اور سیلاب سے بچاؤ کے 10 منصوبے شامل ہیں۔مردان سرکل میں سیلاب سے بچاؤ کے 10 جبکہ بنوں میں دو منصوبے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر منصوبے کے تحت آبپاشی، ہیڈ ورکس اور نکاسی آب کے 79 جبکہ سیلاب سے بچاؤ کے 64 ترقیاتی کام کئے جا رہے ہیں۔ منصوبے کے لئے قرض کے معاہدے پر 15 دسمبر 2022 کو دستخط کئے گئے اور یہ 9 فروری 2023 سے مؤثر ہوا جبکہ منصوبے کا ڈیزائن مرحلہ اپریل سے دسمبر 2023 تک جاری رہا۔منصوبے کے قرض کی اصل اختتامی تاریخ 30 جون 2026 تھی جسے اب بڑھا کر 30 جون 2027 کر دیا گیا ہے تاکہ تعمیر نو اور بحالی کے باقی کام مکمل کرنے کے لئے اضافی وقت فراہم کیا جا سکے۔تقریباً 13 ارب روپے کے اخراجات اور آبپاشی، نکاسی آب اور سیلاب سے بچاؤ کے وسیع انفراسٹرکچر کی بحالی کے ذریعے یہ منصوبہ سیلاب سے متاثرہ تنصیبات کی بحالی کے ساتھ مستقبل میں پانی سے متعلق قدرتی خطرات سے حساس علاقوں کے تحفظ کے لئے صوبے کی استعداد کو مضبوط بنا رہا ہے۔
