اسلام آباد۔26 فروری (اے بی سی):وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام نے سرکاری شعبے کے اداروں میں ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینے کے لیے 10 ہزار سرکاری افسران کو مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کی تربیت دینے کا آغاز کر دیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ اقدام قومی اے آئی پالیسی کے تحت متعلقہ سرکاری ملازمین کی استعداد کار بڑھانے کی مہم کا ایک اہم جزو ہے۔
دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام معروف صنعتی شراکت داروں کے تعاون سے مختلف سرکاری اداروں کے لیے خصوصی اے آئی ورکشاپس کا انعقاد کر رہی ہے تاکہ افسران کو عملی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔اس پروگرام کے تحت وزارت نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای) کے اشتراک سے طلبہ کے نصاب پر نظرِثانی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے تاکہ تعلیمی مواد کو اے آئی دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
مزید برآں، قومی اے آئی پالیسی کے تحت استعداد کار بڑھانے کی اس اسکیم میں 350 سے زائد اساتذہ کی تربیت شامل ہے، جبکہ مزید 650 اساتذہ کو ’’ٹریننگ آف ٹرینرز‘‘ ماڈل کے ذریعے تربیت دی جائے گی تاکہ اس پروگرام کا دائرہ کار وسیع اور پائیدار بنایا جا سکے۔اے آئی پالیسی کے تحت ڈیجیٹل اسکل ایکسپینشن پروگرام بھی شروع کیا جائے گا، جس کے تحت پرامپٹ انجینئرنگ اور اے آئی ٹولز سے متعلق 25 نئے کورسز متعارف کرائے جائیں گے۔
اس میں cod4AI پروگرام کے تحت 7,500 افراد کی تربیت بھی شامل ہے، جو فل اسٹیک اے آئی اور ڈیپ لرننگ پر مرکوز ہوگا۔ اس اسکیم کے تحت 2028 تک 2,000 پیشہ ور افراد کی مہارتوں میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔وزارت ان تربیتی پروگراموں کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی )، میٹا، اقوام متحدہ، ہواوے اور زیڈ ٹی ای جیسے بین الاقوامی شراکت داروں سے بھی معاونت حاصل کرے گی۔
چین پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے چین کی 25 اعلیٰ جامعات میں وظائف بھی فراہم کرے گا۔اس اقدام کا مقصد ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مؤثر استعمال کے ذریعے سرکاری محکموں میں فیصلہ سازی، خدمات کی فراہمی اور ڈیٹا مینجمنٹ کو بہتر بنانا ہے۔
وزارت کے مطابق سرکاری شعبے میں اے آئی مہارتوں کے انضمام سے طرزِ حکمرانی میں جدت، کارکردگی اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔ اے آئی ٹولز سے واقف افسران معمول کے عمل کو خودکار بنانے، بڑے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کرنے اور شہریوں پر مرکوز ڈیجیٹل حل تیار کرنے کے قابل ہوں گے۔
یہ پروگرام تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کے درمیان مضبوط رابطہ نظام قائم کرے گا، ادارہ جاتی تیاری کو یقینی بنائے گا اور پاکستان کو تیزی سے بدلتے تکنیکی منظرنامے کے مطابق علم پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھنے میں مدد دے گا۔یہ اقدام ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے بہتر فیصلے کرنے، معمول کے کاموں کو خودکار بنانے اور مختلف شعبوں میں درستگی بڑھانے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

