صوبائی وزیر برائے اقلیتی امورپنجاب سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر محکمہ انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب کا بجٹ 8 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ 4 ارب روپے اقلیتی کارڈز کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
وہ یزمان میں ہندو برادری کے مذہبی تہوار ہولی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں ڈویژن بھر سے آئے ہوئے ہندو برادری کے وفود نے بھرپور شرکت کی اور روایتی انداز میں خوشیاں منائیں۔
صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور نےہندو برادری میں 43 لاکھ روپے کی ہولی گرانٹ کے امدادی چیک تقسیم کیے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ہولی کی خوشی میں 15 ہزار روپے فی گھرانہ کے حساب سے امدادی رقم فراہم کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ بھر کی ہندو برادری کے مجموعی طور پر 1400 خاندانوں کو ہولی گرانٹ دی جا رہی ہے۔
صوبائی وزیر سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ صوبہ بھر میں ایک لاکھ 50 ہزار اقلیتی خاندانوں کو اقلیتی کارڈز دیے جا رہے ہیں جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے اور پنجاب حکومت اقلیتوں کے آئینی و مذہبی حقوق کے تحفظ، مساوی حقوق کی فراہمی اور مذہبی تہواروں کے پرامن انعقاد کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو برادری کے مذہبی حقوق کی پاسداری اور ان کے سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ تقریب میں چاند کمار، لالہ اکمل لال بھیل، گوپال رام، امر لال، راجو لال اور بابر لال سمیت ہندو کمیونٹی کے دیگر افراد بھی موجود تھے جنہوں نے صوبائی وزیر کی شرکت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے حکومت پنجاب کے اقدامات کو سراہا۔ صوبائی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت جو خود کو سیکولر ریاست کہتا ہے، وہاں مسلمانوں، سکھوں اور مسیحیوں سمیت دیگر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے مگر آج وہ خود خطے میں انسانی حقوق کی پامالی اور بدامنی کی علامت بن چکا ہے۔
تقریب میں ہندو کمیونٹی کے بچوں نے خوبصورت ٹیبلوز پیش کر کے حاضرین سے داد وصول کی۔

