پاکستان کی پھلوں کی برآمدی آمدن گزشتہ دہائی میں دوگنا ہوگئی، ویلتھ پاکستان

اسلام آباد-3 مارچ (اے بی سی):پاکستان کی پھلوں کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن گزشتہ ایک دہائی کے دوران تقریباً دوگنا ہو گئی ہے جو مالی سال 2015-16 میں 44.6 ارب روپے سے بڑھ کر 25-2024 میں 86.0 ارب روپے تک پہنچ گئی۔وزارتِ خزانہ کے گزشتہ 10 مالی سال کے سرکاری تجارتی اعداد و شمار کے مطابق ،جو ویلتھ پاکستان کو دستیاب ہیں، مالی سال 2015-16 میں پھلوں کی برآمدی مقدار 6 لاکھ 77 ہزار ٹن رہی جس سے 44.6 ارب روپے کی برآمدی آمدن حاصل ہوئی۔مالی سال 2016-17 میں برآمدی مقدار کم ہو کر 6 لاکھ 46 ہزار ٹن رہ گئی، جو تقریباً 4.6 فیصد کمی تھی، جبکہ برآمدی آمدن گھٹ کر 39.9 ارب روپے رہ گئی۔

اس کمی کی وجہ کم تر برآمدی مقدار اور برآمدی قدر میں کمی دونوں تھیں۔ مارچ سے ستمبر 2016 کے دوران ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بعض علاقوں میں فلیش فلڈز آئے جن سے باغات، کھڑی فصلیں اور دیہی انفراسٹرکچر متاثر ہوا اور پیداوار پر اثر پڑا۔مالی سال 2017-18 میں برآمدات میں بہتری آئی اور مقدار بڑھ کر 6 لاکھ 97 ہزار ٹن ہو گئی، جبکہ آمدن 43.8 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

یہ مثبت رجحان مالی سال 2018-19 میں بھی جاری رہا جب برآمدی مقدار بڑھ کر 7 لاکھ 56 ہزار ٹن ہو گئی اور برآمدی قدر 56.3 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو آمدن میں سالانہ تقریباً 28 فیصد اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔مالی سال 2019-20 میں پھلوں کی برآمدی مقدار 7 لاکھ 98 ہزار ٹن تک پہنچ گئی جبکہ برآمدی آمدن مزید بڑھ کر 67.8 ارب روپے ہو گئی۔ اس طرح مقدار اور قدر دونوں کے لحاظ سے دو سالہ توسیعی مرحلہ دیکھنے میں آیا۔مالی سال 2020-21 میں نمایاں اضافہ ہوا جب برآمدات بڑھ کر 9 لاکھ 75 ہزار ٹن تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ دہائی کی بلند ترین سطح تھی، اور برآمدی قدر 76.8 ارب روپے ہو گئی۔

2015-16 کے مقابلے میں اس سال برآمدی مقدار تقریباً 44 فیصد زیادہ رہی تاہم مالی سال 2021-22 میں برآمدی مقدار میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور یہ کم ہو کر 6 لاکھ 22 ہزار ٹن رہ گئی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 36 فیصد سے زائد کمی تھی۔ اس کے باوجود برآمدی آمدن بڑھ کر 84.4 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو فی ٹن برآمدی قدر میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔مالی سال 2022-23 میں برآمدی مقدار نسبتاً کم سطح پر 6 لاکھ 29 ہزار ٹن رہی جبکہ برآمدی قدر کم ہو کر 68.8 ارب روپے ہو گئی۔

2022 میں ملک بھر میں کئی دہائیوں کی بدترین سیلابی صورتحال نے وسیع زرعی رقبے کو متاثر کیا اور لاکھوں ایکڑ فصلیں زیرِ آب آئیں۔مالی سال 2023-24 میں برآمدات میں مضبوط بحالی دیکھنے میں آئی۔ برآمدی مقدار بڑھ کر 9 لاکھ 28 ہزار ٹن ہو گئی جبکہ برآمدی آمدن ریکارڈ 97.1 ارب روپے تک پہنچ گئی، جو زیرِ جائزہ 10 سالہ مدت کی بلند ترین برآمدی قدر ہے۔ 2015-16 کے مقابلے میں 2023-24 میں برآمدی آمدن دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔تازہ ترین مالی سال 2024-25 میں برآمدی مقدار ایک بار پھر کم ہو کر 5 لاکھ 79 ہزار ٹن رہ گئی، جو گزشتہ دہائی کی کم ترین سطح ہے۔

تاہم مقدار میں 37 فیصد کمی کے باوجود برآمدی آمدن 86.0 ارب روپے کی مضبوط سطح پر برقرار رہی۔گزشتہ 10 سال کے دوران پھلوں کی برآمدی مقدار 5 لاکھ 79 ہزار ٹن سے 9 لاکھ 75 ہزار ٹن کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہی، جبکہ برآمدی قدر میں مجموعی طور پر مستقل اضافہ دیکھا گیا، جو 2015-16 کے 44.6 ارب روپے سے بڑھ کر 2024-25 میں 86.0 ارب روپے تک پہنچ گئی، یعنی تقریباً 93 فیصد اضافہ ہوا۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ گزشتہ دہائی میں برآمدی مقدار میں نمایاں اتار چڑھاؤ رہاتاہم پھلوں کی مجموعی برآمدی آمدن میں نمایاں مضبوطی آئی۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے