اسلام آباد۔23مارچ (اے پی پی):تعلیمی اصلاحات کے تحت پنجاب کے 1,078 سرکاری سکولوں کو انٹرنیٹ سہولت فراہم کرنے کے لیے 103 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں جس کا مقصد ڈیجیٹل لرننگ انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ان سکولوں میں انٹرنیٹ کنیکٹوٹی یقینی بنانے کے لیے 103.488 ملین روپے کے انٹرنیٹ بلز مختص کیے گئے جس کے ذریعے طلبہ اور اساتذہ کو آن لائن تعلیمی وسائل اور ڈیجیٹل لرننگ پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل ہوئی، یہ ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا گیا ہے۔
یہ اقدام اے ایس پائر پروگرام(23-2022تا25-2024) کے تحت وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہےجس کا مقصد سکولوں کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا، جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا اور سرکاری تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل تعلیم کا فروغ ہے۔ انٹرنیٹ سہولت کی فراہمی سے آن لائن تدریس، اساتذہ کی تربیت اور ڈیجیٹل مواد تک رسائی کو فروغ ملنے کی توقع ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب تعلیمی شعبے میں ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھ رہا ہے۔دستاویز کے مطابق اے ایس پائر پروگرام کی مجموعی لاگت 6,539.759 ملین روپے ہےجبکہ اس پر اب تک 67 فیصد پیشرفت ہو چکی ہے۔
اس کے اہم اجزا میں 2,401 کلاس رومز کی تعمیر شامل ہے جس کے لیے 5,232 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ان کلاس رومز کے لیے 569 ملین روپے کی لاگت سے فرنیچر کی فراہمی جزوی طور پر مکمل کی جا چکی ہے۔پروگرام کے تحت 3,258 گرلز سکولوں میں بیت الخلا کی بحالی بھی شامل ہے۔ مزید برآں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحت 138 نئی آئی ٹی لیبارٹریز قائم کی جا رہی ہیں جبکہ 1,078 موجودہ لیبارٹریز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، اس کے ساتھ 923 سکولوں میں سمارٹ ایل ای ڈی سسٹمز نصب کیے جا رہے ہیں،اس اقدام کے تحت 32,000 اساتذہ کو آن لائن تربیت بھی فراہم کی گئی ہے تاکہ ڈیجیٹل اور فاصلاتی تعلیم کو مؤثر بنایا جا سکے۔

