پاکستان میں زیادہ پیداوار دینے والی ہائبرڈ گندم کی تیاری کے لیے تحقیق میں توسیع

لاہور ۔20 اپریل (اے بی سی):پاکستان نے زیادہ پیداوار دینے والی ہائبرڈ گندم کی تیاری کے لیے اپنی تحقیقی کوششوں کو وسعت دی ہے ، اس طرح پاکستان زیادہ پیداواری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں زیادہ مزاحم فصلوں کی عالمی دوڑ میں شامل ہو گیا ہے۔ پنجاب کے نمایاں زرعی ادارے آسٹریلوی ماہرین کی تکنیکی معاونت کے ساتھ ایک مشترکہ پروگرام کے تحت باہمی تعاون کر رہے ہیں۔’’ہائبرڈ گندم پر تحقیق پنجاب کے مختلف تحقیقی اداروں کا ایک مشترکہ منصوبہ ہے، جس کا مقصد ایسی قسم تیار کرنا ہے جس میں مستقبل میں اس اہم اناج کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کی خاطر زیادہ پیداوار کی صلاحیت ہو‘‘،فیصل آباد کے گندم تحقیقاتی ادارے (ڈبلیو آر آئی) کے چیف سائنٹسٹ ڈاکٹر جاوید احمد نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس اقدام کی قیادت ملتان کی محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے ماہرین کر رہے ہیں، جبکہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور ڈبلیو آر آئی فیصل آباد بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہایہ مشترکہ کوشش پاکستان کی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے اور زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے ہم آہنگ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ڈاکٹر احمد نے بتایا کہ پاکستانی سائنسدان جینیاتی طور پر ترمیم شدہ (جی ایم او) اور ہائبرڈ دونوں اقسام کی فصلیں تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ملک کے ماحولیاتی قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے۔

مشترکہ منصوبے کے تحت، ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر، ملتان، آسٹریلوی بلیو ایلیورون (بی ایل اے) ٹیکنالوجی کے ذریعے ہائبرڈ گندم پر تحقیق کی قیادت کر رہی ہے، جس میں مخصوص افزائشی خصوصیات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک جین متعارف کرایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف سڈنی کے پروفیسر رچرڈ ٹریتھووان تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ٹریتھووان نے تین دہائیوں کی تحقیق کے بعد ایک انقلابی نان-جی ایم او ہائبرڈ گندم ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔ اسے اکثر “حیاتیاتی طور پر مکمل نظام” کہا جاتا ہے، جو خود پولینیشن کو روکتا ہے اور کراس بریڈنگ کو ممکن بناتا ہے، جس کے نتیجے میں 20 فیصد سے زائد پیداوار، بیماریوں کے خلاف بہتر مزاحمت اور گرمی و خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے۔متعدد اداروں میں جاری تحقیق کے باوجود، ڈاکٹر احمد نے تسلیم کیا کہ پاکستان ابھی تک ہائبرڈ گندم کی کوئی تجارتی طور پر قابلِ عمل قسم تیار نہیں کر سکا۔انہوں نے کہا کہ جب ہائبرڈ گندم تیار ہو جائے گی تو یہ بیماریوں اور کیڑوں سے کم متاثر ہوگی اور زیادہ پیداوار دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائبرڈ گندم کی عالمی تحقیق میں چین سرفہرست ہے، جس کے بعد امریکہ، آسٹریلیا اور فرانس کا نمبر آتا ہے۔انہوں نے کہا، “ان ممالک نے نمایاں پیش رفت کی ہے، تاہم ابھی تک کسی ملک نے بڑے پیمانے پر تجارتی کاشت کے لیے ہائبرڈ گندم متعارف نہیں کرائی۔

تاہم انہوں نے زور دیا کہ تجارتی بنیادوں پر اس کی دستیابی صرف وقت کی بات ہے۔ انہوں نے کہا دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ہائبرڈ گندم کو تجارتی سطح پر متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہیں، جو دوسروں کے لیے مثال قائم کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر احمد نے فصلوں کی تیاری میں مسلسل جدت کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کوئی بھی قسم جو طویل عرصے تک کاشت کی جائے، وہ بیماریوں اور کیڑوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہو جاتی ہے اور اس کی پیداوار بھی کم ہونے لگتی ہے، اس لیے نئی اقسام کی تیاری ناگزیر ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ زراعت دراصل سائنسدانوں اور بدلتے ہوئے کیڑوں کے درمیان ایک مسلسل مقابلہ ہے، جو نئی اقسام کو ناکام بنانے کے لیے خود کو ڈھالتے رہتے ہیں۔ماہرین حیاتیاتی ٹیکنالوجی نے پاکستانی سائنسدانوں کی کوششوں کو سراہا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ہائبرڈ گندم ملک کے زرعی شعبے کے لیے ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔چاول، کپاس اور مکئی جیسی فصلوں کی ترقی پہلے ہی پاکستان کے کاشتکاروں کی خوشحالی میں نمایاں کردار ادا کر چکی ہے۔معروف بایوٹیکنالوجسٹ اور خوراکی تحفظ و قومی تحقیق کے سابق نگران وفاقی وزیر ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں محققین ہائبرڈ گندم کی تیاری کے مختلف مراحل پر کام کر رہے ہیں، تاہم ابھی تک کوئی تجارتی قسم متعارف نہیں ہو سکی۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی ہائبرڈ گندم کو تجارتی بنیادوں پر متعارف کرایا جائے گا، تو یہ 1960 کی دہائی میں مختصر قد اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کے تعارف جیسی بڑی پیش رفت ثابت ہوگی۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے