اسلام آباد۔17 اپریل (اے بی سی):رواں مالی سال کے دوران پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 26-2025 کے تحت گوادر میں جاری 22 ترقیاتی منصوبوں پر اب تک 5.36 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے مالی سال 26-2025 کے لئے ان منصوبوں کے لئے 16.79 ارب روپے مختص کئے تھے۔
ان 22 منصوبوں کی مجموعی لاگت 184.2 ارب روپے ہے جو گوادر کو ایک اہم اقتصادی اور لاجسٹک مرکز میں تبدیل کرنے کے لئے وفاقی سرمایہ کاری کے حجم کو ظاہر کرتی ہے، یہ منصوبے اس وقت مختلف مراحل میں زیرِ تکمیل ہیں۔منصوبوں کی نوعیت ایک متنوع ترقیاتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے جس میں انفراسٹرکچر، توانائی، بحری امور، تعلیم اور سماجی شعبے شامل ہیں، اہم جاری منصوبوں میں گوادر۔رتوڈیرو روڈ کی تعمیر، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ منصوبہ اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت مختلف اقدامات شامل ہیں۔
نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اس خطے کا سب سے بڑا منصوبہ ہے جس کی منظور شدہ لاگت 54.98 ارب روپے ہے۔ جون 2025 تک اس منصوبے پر 42.72 ارب روپے خرچ ہو چکے تھے جبکہ 12.26 ارب روپے کی لاگت باقی ہے۔ مالی سال 26-2025 کے لئے 4 ارب روپے مختص کئے گئے جن میں سے 3.43 ارب روپے جاری کئے گئے اور 30 مارچ 2026 تک 2.34 ارب روپے خرچ کئے گئے۔
گوادر۔رتوڈیرو روڈ منصوبہ (ایم-8) پر جون 2025 تک 32.89 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں جبکہ 5.13 ارب روپے کی لاگت باقی ہے۔ رواں مالی سال کے لئے اس منصوبے کے لئے 3 ارب روپے مختص کئے گئے جن میں سے مارچ 2026 کے اختتام تک 592 ملین روپے خرچ ہوئے۔محکمہ آبی وسائل کے تحت ضلع گوادر میں شہزانک ڈیم کی تعمیر کی مجموعی لاگت 2.23 ارب روپے ہے جس میں جون 2025 تک 1.75 ارب روپے خرچ ہو چکے تھے جبکہ 482 ملین روپے باقی ہیں۔ مالی سال 26-2025 کے لئے اس منصوبے کے لئے 220 ملین روپے مختص کئے گئے۔
اسی طرح ریلوے ڈویژن کے تحت گوادر سے بیسیمہ کے راستے جیکب آباد تک ریل رابطے کے لئے اراضی کے حصول کے منصوبے کی لاگت 15.59 ارب روپے ہے جس کے لئے 26-2025 میں 10 ملین روپے مختص کئے گئے جن میں سے مارچ 2026 تک 3 ملین روپے خرچ کئے گئے۔
بلوچستان حکومت کے مالیاتی ڈویژن کے تحت 25 ارب روپے کے گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی بزنس پلان کے لئے 250 ملین روپے مختص کئے گئے، جن میں سے 75 ملین روپے جاری اور خرچ کئے گئے۔گوادر کے طلبہ کو وظائف دینے کے منصوبے جس کی لاگت 165 ملین روپے ہے، کے لئے 18 ملین روپے مختص کئے گئے جن میں سے 9 ملین روپے جاری اور 5 ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔وزارت بحری امور کے تحت گوادر بلیو اکانومی سینٹر (فیز اول) جس کی لاگت 1.50 ارب روپے ہے، کے لئے 15 ملین روپے مختص کئے گئے جن میں سے 5 ملین روپے جاری اور 2 ملین روپے خرچ کئے گئے۔
کئی منصوبوں میں مکمل یا تقریباً مکمل فنڈز کے استعمال کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ گوادر سیف سٹی منصوبہ، جس کی منظوری اپریل 2025 میں سی ڈی ڈبلیو پی نے 2.48 ارب روپے لاگت سے دی، کے لئے 1.5 ارب روپے مختص کئے گئے جن میں سے 1.02 ارب روپے جاری اور مکمل طور پر خرچ کئے گئے۔فریش واٹر ٹریٹمنٹ، پانی کی فراہمی اور تقسیم کے منصوبے جس کی لاگت 11.20 ارب روپے ہے، کے لئے 471 ملین روپے مختص کئے گئے جن میں سے 142 ملین روپے جاری اور مکمل طور پر خرچ کئے گئے۔سائنس و ٹیکنالوجی ریسرچ ڈویژن کے تحت اوشیانوگرافک ریسرچ سب اسٹیشن گوادر کی مضبوطی کے منصوبے جس کی لاگت 300 ملین روپے ہے، کے لئے 150 ملین روپے مختص کئے گئے جن میں سے 74 ملین روپے جاری اور 6 ملین روپے خرچ کئے گئے۔
گوادر ماسٹر پلان کے تحت گراندانی جنوبی میں 750 ایکڑ اراضی کے حصول کے منصوبے جس کی لاگت 3.92 ارب روپے ہے، کے لئے 507 ملین روپے مختص کئے گئے جن میں سے 449 ملین روپے جاری اور مارچ 2026 کے اختتام تک 390 ملین روپے خرچ کئے گئے۔محکمہ دفاع کے تحت گوادر میں شپ یارڈ کے قیام کے لئے پراجیکٹ مینجمنٹ سیل کے قیام کے منصوبے جس کی لاگت 773 ملین روپے ہے، کے لئے 86 ملین روپے مختص کئے گئے جن میں سے 65 ملین روپے جاری اور 22 ملین روپے خرچ کئے گئے۔اسی طرح محکمہ دفاع کے تحت ایف جی جونیئر پبلک سکول گوادر کے قیام کے لئے 100 ملین روپے مختص کئے گئے جن میں سے 60 ملین روپے جاری کئے گئے۔

