آج 5 اگست کا دن تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے نہ کشمیری عوام اور نہ ہی پاکستانی قوم کبھی فراموش کر سکتی ہے۔ سن 2019 میں آج ہی کے دن بھارت نے غاصبانہ، غیر قانونی اور یک طرفہ قدم اٹھاتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا۔ اس آئینی ڈکیتی کا اصل مقصد وادی کے آبادیاتی تناسب (demography) کو تبدیل کرنا اور غیر کشمیریوں کو زمینیں اور جائیدادیں خریدنے کی اجازت دے کر کشمیریوں کو ان کی اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں بدلنا تھا، لیکن بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔
یہ ناانصافی نئی نہیں ہے؛ اس کی جڑیں اکتوبر 1947 کے متنازع ‘الحاق’ سے ملتی ہیں جس نے کشمیریوں سے ان کا بنیادی حقِ خودارادیت چھین لیا۔ دہائیوں سے جاری اس ظلم، سخت لاک ڈاؤنز اور جغرافیائی تبدیلیوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھارت کشمیریوں کے جذبۂ حریت کو شکست دینے میں مکمل ناکام رہا ہے۔
میں اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ اس جدوجہد میں ہرگز تنہا نہیں ہیں۔ پاکستان کی غیور قوم کا بچہ بچہ اور پوری ریاست ہر موڑ پر آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کشمیریوں کا مسلمہ حق ہے، اور جب تک یہ حق انہیں نہیں مل جاتا، ہماری اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ ظلم کی رات کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو، حق اور سچ کی فتح یقینی ہے۔
یوم استحصال کشمیر کے موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کا خصوصی پیغام

