اسرائیل میں ویسٹ نائل وائرس کے کیسز میں اضافہ، رواں سال 13 افراد متاثر، 2 جاں بحق
تل ابیب: اسرائیلی وزارتِ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال ملک میں ویسٹ نائل وائرس کے 13 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے 2 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ وائرس سے متاثرہ مچھروں کی مختلف علاقوں میں موجودگی کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔اسرائیلی وزارتِ صحت کے مطابق متاثرہ افراد میں ویسٹ نائل بخار کی تشخیص ہوئی ہے، جو عام طور پر وائرس سے متاثرہ مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ وزارتِ ماحولیاتی تحفظ نے بتایا کہ ویسٹ نائل وائرس سے متاثرہ مچھر مناشے ریجنل کونسل، رامات ہاشارون اور ایلات کے علاقوں میں پائے گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ وائرس عموماً ایسے مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے جو پہلے متاثرہ پرندوں کا خون چوستے ہیں، بعد ازاں یہی مچھر انسانوں کو کاٹ کر وائرس منتقل کر سکتے ہیں۔اسرائیلی وزارتِ صحت کے شعبۂ صحتِ عامہ کی سربراہ پروفیسر سیگل سیڈزکی نے کہا کہ زیادہ تر مریضوں میں بیماری ہلکی نوعیت کی ہوتی ہے یا علامات ظاہر نہیں ہوتیں، تاہم بعض کیسز میں وائرس اعصابی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید صورت میں ویسٹ نائل وائرس دماغی سوزش (Encephalitis) یا گردن توڑ بخار (Meningitis) جیسی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے، جبکہ 60 سال سے زائد عمر کے افراد اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد اس وائرس سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
حکام نے وائرس کے پھیلاؤ کے ممکنہ ذرائع جاننے کے لیے وبائیاتی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں مچھروں کی نگرانی، افزائش کی روک تھام اور کنٹرول کے اقدامات بھی تیز کر دیے گئے ہیں۔اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں بھی ویسٹ نائل وائرس کا بڑا پھیلاؤ دیکھنے میں آیا تھا، جب 916 کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور 71 افراد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پر مسلسل نگرانی اور حفاظتی اقدامات وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
