لاہور ۔21فروری (اے بی سی):فیصل آباد کے ویجیٹیبل ریسرچ انسٹیٹیوٹ (وی آر آئی) کی بروکلی ماہر وجیہہ خان نے کہا کہ بروکلی کے بیج کی پیداوار کا مرحلہ مارچ کے آخر اور اپریل میں آتا ہے، اس دوران زیادہ درجہ حرارت کے باعث ہم اب تک مقامی قسم تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وی آر آئی کے سائنس دان درجہ حرارت کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے مختلف اوقات میں کاشت کے تجربات کر رہے ہیں، امید ہے کہ مستقبل میں ہم مقامی بروکلی کی قسم تیار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بروکلی بہتر پیداوار کے لیے کم درجہ حرارت کی متقاضی ہے جس کی وجہ سے پنجاب کا پورا صوبہ سردیوں میں اس کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ اسے ایک ہی کھیت میں پھول گوبھی اور بند گوبھی کے ساتھ آسانی سے اگایا جا سکتا ہے۔روایتی سبزیوں کے برعکس بروکلی عموماً چھوٹے رقبوں پر کاشت کی جاتی ہے، بعض اوقات ایک ایکڑ سے بھی کم پر، محدود رقبے کے باوجود یہ کاشتکاروں کو زیادہ منافع فراہم کرتی ہے۔
ماہرین غذائیت خان کے مطابق بروکلی کے طبی فوائد بھی اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی ایک اہم وجہ ہیں۔ فائبر، وٹامن سی، کے اور اے اور سلفورافین جیسے مرکبات سے بھرپور یہ سبزی غذائیت سے مالا مال سپر فوڈ سمجھی جاتی ہے۔لاہور کے ایک ہسپتال کے ماہر غذائیت سید علی حیدر نے کہا کہ یہ دل کی صحت بہتر بناتی ہے، قوت مدافعت میں اضافہ کرتی ہے اور ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بروکلی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور حیاتیاتی مرکبات کینسر کے خطرے کو کم کرنے، نظامِ ہضم بہتر بنانے اور کم کیلوریز، سوزش کش اور جسم کو صاف کرنے والے فوائد فراہم کرتے ہیں۔

