لاہور – 18 فروری (اے بی سی):پنجاب میں آلو کی ریکارڈ پیداوار کے بعد بڑے پیمانے پر پراسیسنگ اور ڈی ہائیڈریشن کا شعبہ کاشتکاروں کے لیے ترقی کے ایک مضبوط نئے موقع کے طور پر ابھر رہا ہے جس سے ویلیو ایڈیشن، برآمدات میں توسیع اور دیہی روزگار کے فروغ کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔پنجاب نے مالی سال 26-2025 کے دوران آلو کی 12 ملین میٹرک ٹن شاندار پیداوار حاصل کی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے،اگرچہ زیادہ پیداوار سے رسد میں اضافہ ہوا ہے تاہم ماہرین کے مطابق یہ اضافی پیداوار صنعتی پراسیسنگ کو تیز کرنے اور پوری ویلیو چین کو مضبوط بنانے کا اسٹریٹجک موقع فراہم کرتی ہے۔فیصل آباد میں قائم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر احمد دین نےویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آلو کی فصل میں ویلیو ایڈیشن کسانوں کے لیے پائیدار آمدن پیدا کرنے کا مؤثر ترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عالمی سطح پر آلو کی کل پیداوار کا نصف سے بھی کم حصہ تازہ استعمال کیا جاتا ہے جبکہ باقی مقدار کو فروزن فرنچ فرائز، چپس، فلیکس، پاؤڈر، اسٹارچ اور ڈبہ بند مصنوعات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ آلو جو تازہ مارکیٹ میں محدود کھپت کا سامنا کر سکتے ہیں، انہیں مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں کے لیے زیادہ قدر والی مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔مسابقتی قیمتوں اور مضبوط پیداوار کے باعث پاکستان پراسیسنگ کے شعبے میں اپنی موجودگی بڑھانے اور عالمی تجارت میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کے لیے موزوں پوزیشن میں ہے۔اس وقت پاکستان میں آلو کے چپس اور فرنچ فرائز نسبتاً بڑے پیمانے پر تیار کیے جا رہے ہیں، تاہم اسٹارچ اور دیگر پراسیس شدہ مصنوعات کی پیداوار محدود ہے۔ صنعت سے وابستہ مبصرین کے مطابق یہی فرق غیر استعمال شدہ صلاحیت کی نشاندہی کرتا ہے۔خصوصاً فرنچ فرائز کے شعبے میں مضبوط برآمدی امکانات موجود ہیں کیونکہ عالمی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک میں بھی ان کی کھپت بڑھ رہی ہے۔فروزن فوڈ انفراسٹرکچر کی توسیع، کولڈ چین لاجسٹکس میں بہتری اور ڈی ہائیڈریشن پلانٹس میں سرمایہ کاری سے برآمدی تیاری کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے وفاقی اور پنجاب حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نئی پراسیسنگ اور ڈی ہائیڈریشن فیکٹریوں کے قیام کے لیے ہدفی مراعات متعارف کرائیں۔ ان کے مطابق اس سے نہ صرف اضافی پیداوار کو جذب کیا جا سکے گا بلکہ ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور دیہی صنعت کاری کو فروغ ملے گا۔کاشتکاروں نے پراسیسنگ کے لیے موزوں اقسام کی کاشت کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ پوٹیٹو گروورز سوسائٹی کے چیئرمین چوہدری مقصود جٹ نے کہا کہ ویلیو ایڈیشن کے لیے آلو میں ڈرائی میٹر کنٹینٹ (ڈی ایم سی) زیادہ ہونا ضروری ہے تاکہ معیاری چپس، اسنیکس، آٹا اور اسٹارچ تیار کیا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ لیڈی روزیٹا، سانتے، موزیکا اور ایسٹریکس جیسی اقسام زیادہ ڈی ایم سی کے باعث پراسیسنگ کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہیں۔ملک بھر میں کاشت کی جانے والی 100 سے زائد اقسام میں سے صرف تقریباً نصف درجن صنعتی استعمال کے معیار پر پوری اترتی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فصل کی منصوبہ بندی کو حکمت عملی کے تحت ترتیب دینے کی ضرورت ہے ۔

