اسلام آباد۔11مارچ (اے بی سی):وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے معدنیات کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن بڑھانے اور برآمدات کو فروغ دینے کے لئے پشاور میں تقریباً 980 ملین روپے کی لاگت سے جدید منرلز ریسورس سینٹر قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبے کا عنوان ’’پی سی ایس آئی آر لیبارٹریز پشاور میں مصنوعات کے ڈیزائن، ترقی اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات بڑھانے کے لئے منرلز ریسورس سینٹر، تجزیاتی لیبارٹری اور معدنیات کی شناختی سہولت کا قیام‘‘ رکھا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق منصوبے کی مجموعی لاگت 979.621 ملین روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے لئے 150 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس سکیم کی منظوری محکمانہ ترقیاتی ورکنگ پارٹی (ڈی ڈی ڈبلیو پی ) نے 18 فروری 2025 کو دی تھی۔اس منصوبے کا مقصد پی سی ایس آئی آر لیبارٹریز پشاور میں معدنیات کی پروسیسنگ اور استخراج کی جدید سہولیات قائم کرنا ہے تاکہ پاکستان میں معدنی وسائل کی ویلیو ایڈیشن اور صنعتی استعمال کی صلاحیت کو مضبوط بنایا جا سکے۔
منصوبے کے اہم اہداف میں جدید اور بینیفیشیشن پائلٹ پلانٹ اور الیکٹرولائٹک ریفائننگ سسٹمز کی تنصیب شامل ہے جس سے صنعتی شعبے کو معدنی وسائل کی پروسیسنگ اور اپ گریڈیشن میں مدد ملے گی۔اس اقدام کے تحت معدنیات کے استخراج اور بینیفیسیشن کے جدید طریقہ کار بھی متعارف کرائے جائیں گے جبکہ نایاب ارضی دھاتوں اور دیگر سٹریٹجک معدنیات کی پیداوار اور ان کی خصوصیات کے تعین کے لئے جدید ٹیسٹنگ اور تجزیاتی تکنیکیں بھی تیار کی جائیں گی۔منصوبے کے تحت ایک جدید جیولوجیکل سروے سسٹم بھی قائم کیا جائے گا جس کے ذریعے معدنیات، کانوں اور معدنی ذخائر کی نشاندہی میں سہولت ملے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ایسے علاقوں کی نقشہ سازی بھی کی جائے گی جہاں ابھی تک دریافت نہ ہونے والے معدنی وسائل کی موجودگی کے امکانات زیادہ ہیں۔اس کے علاوہ یہ مرکز سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کو تکنیکی اور تجزیاتی خدمات فراہم کرے گا تاکہ معدنی وسائل کی تلاش، جانچ اور ترقی کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔تحقیق، جدت اور کمرشلائزیشن کی معاونت کے ذریعے یہ منصوبہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے کو مضبوط بنانے، سائنسی بنیادوں پر معدنی وسائل کی تلاش کو فروغ دینے اور صنعتوں کو مقامی استعمال اور برآمدات کے لیے زیادہ ویلیو رکھنے والی معدنی مصنوعات تیار کرنے کے قابل بنانے میں مدد دے گا۔

