سمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجیز کے فروغ و مقامی زرعی مشینری کی ترقی کے لیے 990 ملین روپے کا منصو بہ

اسلام آباد۔25مارچ (اے پی پی):وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے سمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجیز کے فروغ اور مقامی زرعی مشینری کی ترقی مضبوط بنانے کے لیے 990 ملین روپے کے منصوبے کی تجویز پیش کی ہے۔ ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کا عنوان ’’نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (این اے آر سی )میں ڈیجیٹل اور پریسیژن ایگریکلچر میکانائزیشن سہولت کا قیام ‘‘ہے جسے ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ (اے ای آئی )، نارک اسلام آباد نافذ کرے گا۔یہ منصوبہ جولائی 2026 سے جون 2031 تک پانچ سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا اور اس کا مقصد زرعی میکانائزیشن کو فروغ دینا اور پریسیژن و سمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجیز کو عام کرنا ہے۔

یہ تجویز اہم قومی ترقیاتی فریم ورکس کے ساتھ ہم آہنگ ہے جن میں 5Es فریم ورک، 13واں پانچ سالہ منصوبہ، اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف اور نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پروگرام (این اے آئی جی پی )شامل ہیں۔اس منصوبے کا مقصد وسائل کے مؤثر استعمال پر مبنی زرعی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا، چھوٹے کاشتکاروں کے لیے میکانائزیشن کی سہولت فراہم کرنا، قومی زرعی تحقیقاتی نظام کو مضبوط بنانا، درآمدی متبادل کو فروغ دینا اور زرعی ایس ایم ایز و مقامی صنعت کاروں کی معاونت کرنا ہے۔منصوبے کے تحت تین اہم سہولیات کو اپ گریڈ کیا جائے گا جن میں ڈیزائن لیب، پروٹوٹائپ ورکشاپ اور ٹیسٹنگ لیب شامل ہیں۔

ڈیزائن لیب کو جدید ٹیکنالوجیز جیسے تھری ڈی سکیننگ، کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (سی اے ڈی )، ماڈلنگ اور سمولیشن ٹولز سے لیس کیا جائے گا۔پروٹوٹائپ ورکشاپ کو کمپیوٹر نیومیرکل کنٹرول (سی این سی )، کمپیوٹر ایڈیڈ مینوفیکچرنگ (سی اے ایم )، لیزر کٹنگ اور ٹیسٹنگ سہولیات کی تنصیب کے ذریعے ڈیجیٹل بنایا جائے گا تاکہ مشینری کی تیاری اور جانچ کو بہتر بنایا جا سکے۔اس منصوبے کے تحت مصنوعی ذہانت، انٹرنیٹ آف تھنگز، بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں (یواے ویز ) اور روبوٹکس کے ذریعے جدید زرعی آلات کی تیاری کی جائے گی۔اس کے علاوہ یو اے وی و زرعی روبوٹکس کی تیاری اور انضمام کے لیے ایک خصوصی سہولت بھی قائم کی جائے گی۔تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں کے تحت کم از کم پانچ مختلف زرعی مشینوں کے پروٹوٹائپس مقامی سطح پر ڈیزائن، تیار اور آزمائے جائیں گے۔

صلاحیت سازی بھی اس منصوبے کا اہم جزو ہے، کم از کم 10 تربیتی سرگرمیاں جن میں ورکشاپس، تربیتی سیشنز اور کسان فیلڈ ڈیز شامل ہیں منعقد کی جائیں گی تاکہ کسانوں، صنعت کاروں اور محققین کو تکنیکی مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔متوقع طور پر یہ سہولت ویلیو ایڈڈ پیداوار کے نظام کو فروغ ، تکنیکی روزگار کے مواقع پیدا اور مقامی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو مضبوط بنائے گی۔500 سے زائد سٹیک ہولڈرز جن میں کسان، صنعت کار اور محققین شامل ہیں، تربیت اور علم کے تبادلے کے ذریعے مستفید ہوں گے جس سے زرعی تحقیقاتی نظام میں صلاحیت سازی اور ٹیلنٹ کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے