خواتین کے تحفظ اور ریپ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں ” بیرسٹر دانیال چوہدری

خواتین کے تحفظ اور ریپ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں ” بیرسٹر دانیال چوہدری
خواتین کے تحفظ اور ریپ کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں " بیرسٹر دانیال چوہدری

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے 13ویں اجلاس میں نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو) کی کارکردگی، خواتین کے تحفظ، ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومتی اقدامات اور گزشتہ اجلاس کی سفارشات پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کی صدارت کمیٹی کی چیئرپرسن آسیہ ناز تنولی نے کی جبکہ وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات و نشریات بیرسٹر دانیال چوہدری نے شریک صدارت کی۔

نیشنل کمیشن برائے خواتین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملٹی چینل کمپلینٹ سسٹم گزشتہ پانچ ماہ سے فعال ہے، جہاں شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے کنسلٹنٹس کو خصوصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ جینڈر ڈیٹا پورٹل پر صنفی اعداد و شمار مسلسل اپ ڈیٹ کیے جا رہے ہیں تاکہ پالیسی سازی کے لیے مستند معلومات میسر ہو سکیں۔ پہلی جینڈر پیرٹی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جسے آئندہ مرحلے میں صوبائی سطح تک وسعت دی جائے گی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ کمیشن کی جانب سے میڈیا کے لیے تین سیمینارز منعقد کیے جا چکے ہیں، جن میں صحافیوں کو ریپ اور تشدد کی متاثرین سے متعلق حساس اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے اصولوں سے آگاہ کیا گیا۔

وزارت انسانی حقوق نے بریفنگ میں بتایا کہ 2022 سے 2024 کے دوران صنفی تشدد کے رپورٹ ہونے والے کیسز میں اضافے کے پیش نظر خصوصی تحقیقاتی یونٹس اور ویمن اینڈ چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کو مزید فعال بنایا گیا ہے، افسران کی تربیت کی گئی ہے اور شکایات کے ازالے کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

اس موقع پر وفاقی پارلیمانی سیکرٹری بیرسٹر دانیال چوہدری نے ہراسگی کے حوالے سے آگاہی اور واضح قانونی تشریح کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری و نجی اداروں میں ہراسگی کے خلاف آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے تاکہ ہر شخص اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور قانونی حدود سے مکمل آگاہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہراسگی کی قانونی حدود میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے تاکہ شکایت کنندہ اور ملزم دونوں اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ رہیں۔

بیرسٹر دانیال چوہدری نے وزارت انسانی حقوق کی 1099 ہیلپ لائن اور بچوں کے تحفظ کے لیے 1121 چائلڈ ہیلپ لائن کی تشہیر مزید مؤثر بنانے کی سفارش کی تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری ان سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔

رکن کمیٹی شاہدہ رحمانی نے تجویز دی کہ ریپ کے کسی ایک مقدمے کو کیس اسٹڈی کے طور پر کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ قابل عمل سفارشات مرتب کر کے قومی اسمبلی میں پیش کی جا سکیں۔

سیکرٹری وزارت انسانی حقوق نے بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ریپ متاثرین کے لیے فیس لیس ٹرائل کا نظام رائج ہے، جس پر پاکستان میں عمل درآمد کا جائزہ لیا جانا چاہیے تاکہ متاثرین کو بلا معاوضہ، باوقار اور آسان انصاف فراہم کیا جا سکے

Related Post