پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی ساخت کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ 30 جون 2026 تک سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھ کر 583,052 ہو گئی، جبکہ مالی سال 2025 سے 2026 کے آغاز پر یہ تعداد 392,775 تھی۔ ایک سال کے دوران 190,277 نئے سرمایہ کاروں کا اضافہ ہوا، جو تقریباً 48 فیصد شرح نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ پیش رفت محض نئے اکاؤنٹس کھولنے کی عارضی لہر نہیں بلکہ ملک میں سرمایہ کاری کے رجحان میں ایک وسیع تر تبدیلی کی علامت ہے۔
کئی دہائیوں تک پاکستان کی آبادی اور بچت کی مجموعی صلاحیت کے مقابلے میں کیپٹل مارکیٹ میں عوامی شرکت محدود رہی۔ زیادہ تر گھرانے جائیداد، سونا، نقد بچت یا غیر رسمی ذرائع میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے تھے۔ سرمایہ کاروں کی تعداد میں حالیہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ زیادہ پاکستانی، خصوصاً نوجوان اور پہلی مرتبہ سرمایہ کاری کرنے والے افراد، اب باقاعدہ اور منظم مالیاتی منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں۔
اس تبدیلی میں نوجوانوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ جنوری سے جون 2026 کے دوران ہونے والی نئی رجسٹریشنز میں 18 سے 30 سال کی عمر کے افراد کا حصہ 45 فیصد رہا، جبکہ 31 سے 45 سال کے افراد نے مزید 41 فیصد حصہ ڈالا۔ مجموعی طور پر ان دونوں عمر کے گروہوں نے نئی رجسٹریشنز میں 86 فیصد حصہ لیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان اور کام کرنے کی عمر کے پاکستانی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے پھیلاؤ کی قیادت کر رہے ہیں۔
یہ رجحان عالمی سطح پر ہونے والی ایک بڑی تبدیلی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل ریٹیل انویسٹر آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق جنریشن زی کے 30 فیصد افراد نوجوانی یا عملی زندگی کے ابتدائی دور میں سرمایہ کاری شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جنریشن ایکس کے صرف 9 فیصد اور بے بی بومرز کے 6 فیصد افراد نے اسی عمر میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا تھا۔ نئی نسل اب سرمایہ کاری شروع کرنے کے لیے درمیانی عمر کا انتظار نہیں کرتی بلکہ موبائل ایپلی کیشنز اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کم عمری ہی میں اپنے سرمایہ کاری پورٹ فولیو بنانا شروع کر دیتی ہے۔
پاکستان بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، اگرچہ اس کی موجودہ بنیاد بہت محدود ہے۔ بھارت میں ریٹیل سرمایہ کاروں کا ایک بہت بڑا نظام تشکیل پا چکا ہے اور نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ منفرد سرمایہ کاروں کی تعداد 13 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان میں سرمایہ کاروں کی تعداد اب بھی کم ہے، تاہم شرح نمو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریٹیل سرمایہ کاری بتدریج وسعت اختیار کر رہی ہے۔
ڈیجیٹل رسائی اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ موبائل ٹریڈنگ ایپلی کیشنز، آن لائن اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت اور بروکریج خدمات تک آسان رسائی نے وہ رکاوٹیں کم کر دی ہیں جو ماضی میں نوجوان اور چھوٹے سرمایہ کاروں کو اسٹاک مارکیٹ سے دور رکھتی تھیں۔ جنریشن زی ایپلی کیشن پر مبنی مالیاتی خدمات، آن لائن سیکھنے اور ڈیجیٹل لین دین میں زیادہ سہولت محسوس کرتی ہے۔ سی ایف اے انسٹی ٹیوٹ اور فنرا کی تحقیق بھی ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان سرمایہ کار سرمایہ کاری کی ایپلی کیشنز، کرپٹو کرنسی اور سوشل میڈیا پر دستیاب مالیاتی معلومات سے خاصے متاثر ہوتے ہیں۔
تاہم سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد لازماً اس بات کی ضمانت نہیں کہ تمام سرمایہ کار باخبر، فعال اور طویل مدت تک مارکیٹ سے وابستہ رہیں گے۔ پائیدار مارکیٹ ترقی کا انحصار سرمایہ کاروں کی تعلیم، خطرات سے آگاہی، معیاری مالیاتی مصنوعات، شفافیت اور مؤثر ضابطہ کاری پر ہوگا۔ نوجوان سرمایہ کار خصوصاً قیاس آرائی پر مبنی اثاثوں، موقع کھو دینے کے خوف اور غیر مصدقہ آن لائن مشوروں سے متاثر ہونے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔
پاکستان میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ایک ساختی تبدیلی کے آغاز کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ملک کی کیپٹل مارکیٹ اب بھی اپنی مکمل صلاحیت سے بہت کم سطح پر ہے، تاہم سمت حوصلہ افزا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ SECP اور PSX نچلی سطح پر فن ٹیک کے ساتھ مل کر فنانشل لٹریسی کی مہمات شروع کریں تاکہ نوجوان قیاس آرائی کے بجائے طویل مدتی سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوں۔ بہتر مالیاتی تعلیم، آسان اور موزوں سرمایہ کاری کی مصنوعات اور قابل اعتماد ضابطہ کاری کے ذریعے نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت مالی شمولیت، بچت کے مؤثر استعمال اور طویل مدتی کیپٹل مارکیٹ کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
سرمایہ کاری کا نیا دور: پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں جنریشن زی کا بڑھتا کردار

