اسلام آباد۔ 16فروری (اے بی سی):چین کی بیج بنانے والی ایک معروف کمپنی نے پاکستان میں زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامعات، تحقیقی اداروں اور زرعی کاروباری اداروں کے ساتھ شراکت داری قائم کرلی ہے،جس کا مقصد مہارتوں میں اضافہ اور جدید کاشتکاری طریقوں کا فروغ ہے۔تفصیلات کے مطابق ووہان چنگفا ہیشینگ سیڈ کمپنی لمیٹڈ کے کنٹری ڈائریکٹر ژو شو شینگ نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کی تعلیم و تربیت کمپنی کی حکمت عملی کا مرکزی ستون ہے،کمپنی پاکستان میں طویل المدتی تحقیقی صلاحیت کو فروغ دے رہی ہے تاکہ موسمی دباؤ اور بڑھتی ہوئی غذائی ضروریات جیسے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بیجوں میں جدت اور کسانوں کی تربیت لازم و ملزوم ہیں۔ان کو معیاری بیج فراہم کرنا کافی نہیں بلکہ کسانوں کو اس کے درست استعمال کی عملی تربیت دینا بھی ضروری ہے۔اسی مقصد کے تحت کمپنی آن لائن اور بالمشافہ دونوں انداز میں تربیتی پروگرام منعقد کرتی ہے، جن میں ٹیکنیشنز اور شراکت دار ٹیموں کو جدید کاشتکاری کےطریقوں، اقسام کی خصوصیات اور موسمی خطرات کے انتظام سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ژو شو شینگ نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ صرف مچھلی دینا کافی نہیں، بلکہ مچھلی پکڑنا سکھانا زیادہ اہم ہے اور انہوں نے پائیدار ترقی کے لیے علم کی منتقلی کو ناگزیر قرار دیا۔ہر سال ووہان چنگفا ہیشینگ سیڈ کمپنی پاکستانی کسانوں کے لیے 100 سے زائد فیلڈ ٹریننگ سیشنز منعقد کرتی ہے۔
ژو کے مطابق کمپنی کا تصور یہ ہے کہ’’تعلیم چین میں، استعمال پاکستان میں‘‘۔چین پاکستان تعاون کے تحت ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس نے چین میں تین ماہ کی تربیت مکمل کی۔ یہ پروگرام ووہان چنگفا ہیشینگ سیڈ کمپنی اور ہواژونگ زرعی یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس کا نصاب پاکستان کی بیج ٹیکنالوجی کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا تھا۔ژو نے بتایا کہ یہ پروگرام چینی حکام اور پاکستان کی قیادت سے مشاورت کے بعد تشکیل دیا گیا ہے، جس کے بعد طلبہ کو ان کے آبائی شہر میں تربیت کے لیے مدعو کیا گیا۔ کلاس روم تعلیم کے ساتھ ساتھ شرکا کو چین کے نیشنل ایگریکلچرل پارک اور نیشنل ایگریکلچرل ہائی ٹیکنالوجی زون میں عملی تجربہ بھی فراہم کیا گیا۔
تربیت کے دوران طلبہ کو کھاد، زرعی ادویات، بیج، باغبانی اور فوڈ پروسیسنگ سے وابستہ کمپنیوں کے ساتھ بھی منسلک کیا گیا تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ چینی ادارے جدید زرعی ٹیکنالوجی کو پیداواری سلسلے کے ہر مرحلے پر کس طرح بروئے کار لاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام کو طلبہ کی جانب سے مثبت پذیرائی ملی ہے اور وطن واپسی پر یہ نوجوان کمپنی کے فیلڈ پروگرامز میں دوبارہ شامل ہوں گے۔خواتین کو بااختیار بنانا بھی کمپنی کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کمپنی مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر زرعی شعبے میں خواتین کی شمولیت بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے، خاص طور پر خاندانی بنیادوں پر پروسیسنگ سرگرمیوں کے ذریعے تاکہ خواتین گھریلو غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ آمدنی بھی حاصل کر سکیں۔ژو نے کہا کہ پاکستان کی زرخیز زمین، سازگار موسم اور محنتی کسان زرعی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والی شدید گرمی کی لہروں اور سیلاب نے گرمی برداشت کرنے والی اقسام کی فوری ضرورت پیدا کر دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ووہان چنگفا ہیشینگ سیڈ کمپنی صرف چین میں تجربات پر انحصار کرنے کے بجائے پاکستان میں ہی نئی اقسام تیار کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موسم سرما کی فصلوں کے پروگرام کو بھی وسعت دی جا رہی ہے تاکہ چین کی سبزیوں کی اقسام متعارف کرا کر پاکستان کی بڑی اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
پاکستان کا سبزیوں کا شعبہ 24 کروڑ 20 لاکھ آبادی کی وجہ سے مضبوط مقامی طلب رکھتا ہے اور یومیہ استعمال کی سطح بلند ہے۔ ژو کے مطابق اسی تناظر میں مقامی کسانوں کو چین کی اعلیٰ سبزی کی اقسام متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ رسد کو یقینی بنایا جا سکے۔

