لاہور۔13فروری (اے بی سی):پنجاب بھر میں کام کرنے والی 41 شوگر ملوں کی جانب سے موجودہ گنے کی فصل کا 70 فیصد سے زائد حصہ پہلے ہی کرش کیے جانے کے بعد صوبے کے کاشتکاروں نے فروری اور مارچ کے تجویز کردہ عرصے کے دوران بہاری گنے کی کاشت کا آغاز کر دیا ہے۔ ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے شوگرکین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آر آئی) فیصل آباد کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کاشف منیر نے بتایا کہ پنجاب میں گنے کی مجموعی کاشت کا تقریباً 70 فیصد حصہ بہاری کاشت پر مشتمل ہوتا ہے۔
ان کے مطابق ستمبر میں کی جانے والی کاشت کا حصہ صرف 10 سے 15 فیصد ہے جبکہ باقی پیداوار ریٹون کاشت کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ریٹون گنے سے مراد وہ فصل ہے جو پچھلی کٹائی کے بعد زمین میں موجود جڑوں یا تنوں کے بچے ہوئے حصے سے دوبارہ اُگتی ہے۔ڈاکٹر منیر نے کہا کہ موجودہ بہاری سیزن کے لیے تجویز کردہ اقسام میں سی پی ایف-253، سی پی-77-400، ایچ ایس ایف-240 اور سی پی ایف-237 شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نئی منظور شدہ اقسام ایف ڈی پی-254، ایس 2016 اور ایس-284 بھی اس سال پنجاب میں کاشت کے لیے دستیاب ہیں ۔ ان کے مطابق موجودہ موسمی حالات بہاری گنے کی کاشت کے لیے سازگار ہیں تاہم کاشتکار برادری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ شوگر ملیں عموماً ستمبر میں کاشت کیے گئے گنے کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ یہ تقریباً 15 ماہ میں تیار ہوتا ہے جبکہ بہاری گنا تقریباً 10 ماہ میں پک جاتا ہے۔
فارمرز ایسوسی ایٹس پاکستان کے ڈائریکٹر عباد الرحمن خان نے کہا کہ ستمبر میں اگائے گئے گنے سے شوگر ملوں کو زیادہ سکروز ریکوری حاصل ہوتی ہے، لیکن کاشتکاروں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ خزاں کی کاشت کی وجہ سے وہ تین تک فصلوں کے چکر سے محروم ہو جاتے ہیں۔موجودہ کرشنگ سیزن کے دوران پنجاب کی شوگر انڈسٹری کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ کین کمشنر پنجاب امجد حفیظ کے مطابق اب تک شوگر ملوں نے 30.83 ملین ٹن گنا کرش کر کے 2.93 ملین ٹن چینی تیار کی ہے۔
انہوں نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 28.60 ملین ٹن گنا کرش کیا گیا تھا جس سے 2.59 ملین ٹن چینی پیدا ہوئی تھی۔ ان کے مطابق اوسط ریکوری ریٹ بڑھ کر 9.69 فیصد ہو گیا ہے جو گزشتہ سال 9.18 فیصد تھا۔کین کمشنر نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کیری فارورڈ چینی کا ذخیرہ نمایاں طور پر کم ہو کر 0.11 ملین ٹن رہ گیا ہے جو پہلے 0.60 ملین ٹن تھا۔ اس طرح صوبے میں چینی کی مجموعی دستیابی اس وقت 3.04 ملین ٹن ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ سیزن کے دوران اب تک 1.20 ملین ٹن چینی فروخت کی جا چکی ہے جبکہ اختتامی ذخیرہ 1.83 ملین ٹن رہ گیا ہے۔کین کمشنر پنجاب کے مطابق کاشتکاروں کو اوسطاً 460 روپے فی 40 کلو گرام کے حساب سے قیمت موصول ہو رہی ہے۔ کم از کم قیمت 400 روپے فی 40 کلوگرام کوٹ ادو اور سرگودھا میں ریکارڈ کی گئی جبکہ زیادہ سے زیادہ قیمت 580 روپے فی 40 کلوگرام میانوالی میں دیکھی گئی۔مارکیٹ میں چینی کی فراہمی بڑھنے کے باعث ایکس مل قیمتیں اس وقت 142 سے 146 روپے فی کلوگرام کے درمیان ہیں جبکہ پرچون قیمتیں 145 سے 160 روپے فی کلوگرام تک دیکھی جا رہی ہیں۔
پنجاب بیورو آف سٹیٹسٹکس کے مطابق 2 فروری 2026 ءتک صوبے بھر میں چینی کی قیمتیں 145 سے 170 روپے فی کلوگرام کے درمیان رہیں۔کاشتکاروں کو ادائیگیوں کے حوالے سے کین کمشنر نے بتایا کہ 2025-26 کے کرشنگ سیزن میں شوگر ملوں نے 342.53 ارب روپے مالیت کا گنا خریدا جس میں سے 317.46 ارب روپے کی ادائیگی پہلے ہی کر دی گئی ہے۔ بقایا رقم صرف 25.08 ارب روپے رہ گئی ہے جو 92.68 فیصد ادائیگی کلیئرنس کی شرح کو ظاہر کرتی ہے۔

