اسلام آباد۔15فروری (اے پی پی):پاکستان نے بہتر مارکیٹ رسائی، تجارتی مذاکرات، نمائشوں اور خریداروں سے روابط بڑھانے کے اقدامات کے ذریعے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک اور افریقی منڈیوں میں چاول کی برآمدات میں اضافے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستان کو جی سی سی خطے میں چاول کی برآمدات پر پہلے ہی زیرو امپورٹ ڈیوٹی کی سہولت حاصل ہے جس سے ملکی برآمدکنندگان کو نمایاں مسابقتی برتری ملتی ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستانی چاول کی دو بڑی منڈیاں بن کر ابھری ہیں تاہم قیمتوں میں مسابقت اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
حکام ان مارکیٹوں میں پاکستان کا برآمدی حصہ بڑھانے کے لیے فعال اقدامات کر رہے ہیں۔تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پاکستان نے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے وفود کو سعودی عرب کے دوروں میں سہولت فراہم کی ہے۔پاکستانی کمپنیاں بین الاقوامی تجارتی میلوں میں بھی شرکت کر رہی ہیں۔ دبئی میں منعقدہ گلفوڈ ایکسپو 2026 میں چاول برآمدکنندگان عالمی خریداروں کے سامنے پاکستانی چاول کی تشہیر اور نمائش کے لیے سرگرم ہیں۔افریقی منڈیوں میں بھی پاکستان چاول کے برآمدکنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کی غرض سے متعدد تجارتی اور تشہیری اقدامات کر رہا ہے۔حکومت موزمبیق کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے (پی ٹی اے) پر مذاکرات کر رہی ہے اور مسودہ حتمی مراحل میں ہے۔
ٹیرف مذاکرات کے دوران چاول کو بہتر مارکیٹ رسائی کے لیے ترجیحی مصنوعات میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔اسی طرح مشرقی افریقی کمیونٹی (ای اے سی) کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) مذاکرات شروع کرنے کے لیے ادارہ جاتی انتظامات کیے جا رہے ہیں جہاں چاول کو ٹیرف میں کمی کے لیے اہم مصنوعات میں شامل کیا گیا ہے۔ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے زمینی سطح پر مارکیٹنگ سرگرمیاں بھی تیز کر دی ہیں۔ اگست 2025میں ٹی ڈی اے پی نے پہلی بار مغربی افریقہ کے ممالک گھانا، آئیوری کوسٹ اور سینیگال میں پاکستان رائس روڈ شوز کا انعقاد کیا۔
ان تقریبات سے پاکستانی چاول کی تشہیر، مقامی درآمدکنندگان سے روابط اور بزنس ٹو بزنس ملاقاتوں کے ذریعے طویل مدتی تجارتی شراکت داریوں کو فروغ ملا۔کینیا میں حکومتی سطح پر مربوط رابطوں کے نتیجے میں قیمتوں میں مسابقت بہتر ہوئی ہے۔ پاکستانی چاول کی کسٹمز ویلیوایشن 615 ڈالر فی میٹرک ٹن ایف او بی سے کم کر کے 460 ڈالر فی میٹرک ٹن کر دی گئی جس سے کینیا کی مارکیٹ میں برآمدات مزید پرکشش ہو گئی ہیں۔
حکومت کی لک افریقہ پالیسی کے تحت افریقہ کے مختلف خطوں میں پانچ فلیگ شپ سنگل کنٹری نمائشوں کا انعقاد کیا گیا جہاں چاول کے برآمدکنندگان کو نمایاں نمائندگی دی گئی جن میں 2025میں ایتھوپیا میں منعقدہ تازہ ترین نمائش بھی شامل ہے۔دستاویز کے مطابق ٹی ڈی اے پی کی انٹرنیشنل فوڈ اینڈ ایگرو ایگزیبیشن (فوڈ اے جی) کے تینوں ایڈیشنز میں افریقی خریداروں کی شرکت کو بھی ممکن بنایا گیا جس سے براہ راست تجارتی روابط مزید مستحکم ہوئے۔

