اسلام آباد۔12مارچ (اے بی سی):حکومت نے بلوچستان میں ابتدائی تعلیم کے نظام میں بہتری کے لیے 9.07 ملین ڈالر کا منصوبہ شروع کر دیا ہے جس کا مقصد خصوصاً دیہی اور پسماندہ علاقوں کے ہزاروں بچوں تک تعلیم کی سہولیات پہنچانا ہے، جہاں ابتدائی تعلیم تک رسائی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اس منصوبے پر بلوچستان کے محکمہ تعلیم کے ذریعے عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور اسے 30 جون 2029 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
’’سسٹم ٹرانسفارمیشن اِن بلوچستان فار ارلی ایجوکیشن‘‘ کے عنوان سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ معیاری ابتدائی تعلیمی پروگراموں تک رسائی بڑھانے، اساتذہ کی تربیت کو بہتر بنانے اور صوبائی تعلیمی نظام میں ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے ۔ اس منصوبے کے تحت پسماندہ اضلاع میں سکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا، ابتدائی تعلیم کے لیے معیاری نصاب متعارف کرایا جائے گا اور تعلیمی خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا نظام بھی قائم کیا جائے گا۔منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے اور اس کے لیے عملے کی تعیناتی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
تعلیمی مواد کی خریداری، تربیتی پروگراموں کے انعقاد اور انفراسٹرکچر سے متعلق معاہدوں کے اجرا کا عمل جلد شروع ہونے کی توقع ہے۔یہ منصوبہ بلوچستان کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ابتدائی تعلیم زندگی بھر سیکھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے منصوبے اگر مؤثر طریقے سے نافذ اور سخت نگرانی کے تحت چلائے جائیں تو یہ نمایاں مثبت نتائج دے سکتے ہیں۔
بلوچستان میں حاصل ہونے والے تجربات ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں میں ابتدائی تعلیم کے اصلاحاتی پروگراموں کے لیے ایک نمونہ بن سکتے ہیں۔حکام کو امید ہے کہ اس اقدام سے صوبے میں پری پرائمری اور ابتدائی تعلیم کی سہولیات تک رسائی میں نمایاں اضافہ ہوگا، اساتذہ جدید تدریسی مہارتوں سے لیس ہوں گے اور بالآخر شرح خواندگی میں بہتری آئے گی۔

