پی اے آر سی کا خوردنی تیل کی درآمدات کم کرنے کے لیے 1.65 ارب روپے کا پروگرام تجویز

اسلام آباد۔18مارچ (اے بی سی):پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی)نے خوردنی تیل کی درآمدات پر انحصار کم کرنے اور آئل سیڈز کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے 1.65 ارب روپے کے پانچ سالہ منصوبے کی تجویز پیش کی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق “نیشنل کراپ ڈائیورسفکیشن اینڈ امپورٹ سبسٹی ٹیوشن پروگرام (آئل سیڈز)” کے عنوان سے یہ منصوبہ جولائی 2026 سے جون 2031 تک ملک بھر میں نافذ کیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد موسمیاتی لحاظ سے موزوں زرعی طریقوں، جدید بیجوں کے نظام، کسانوں کی تربیت اور بہتر ویلیو چینز کے ذریعے آئل سیڈز کی مقامی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔منصوبے کے مطابق کلسٹر بنیادوں پر فصلوں کی تنوع کاری کی جائے گی جبکہ کسانوں کے لیے فیلڈ ڈیمانسٹریشن ہبز اور ڈیجیٹل ایڈوائزری سسٹمز قائم کیے جائیں گے تاکہ جدید زرعی طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔

اس کے علاوہ ترجیحی آئل سیڈ فصلوں کی پیداوار اور منافع میں بہتری کے لیے بریڈر، فاؤنڈیشن اور سرٹیفائیڈ بیجوں کی پیداوار کو بڑھا کر قومی بیج نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔یہ منصوبہ زرعی جدت اور ترقی سے متعلق قومی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے اور توقع ہے کہ اس کے ذریعے خوردنی تیل کی درآمدات میں تقریباً 10 سے 20 فیصد تک کمی لائی جا سکے گی جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ فصلوں، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور زمین و پانی کے پائیدار استعمال کو فروغ ملے گا۔منصوبے کے تحت چھ آئل سیڈ فصلوں کے لیے قومی زوننگ کی جائے گی اور ملک بھر میں 10 سے 15 پیداواری کلسٹرز قائم کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ 20 سے 50 ماڈل فارمز قائم کیے جائیں گے جبکہ تقریباً 100,000 ایکڑ رقبہ آئل سیڈز کی کاشت کے لیے مختص کیا جائے گا۔مزید برآں، دو سے پانچ ہیکٹر پر مشتمل 50 سے 100 ڈیمانسٹریشن ہبز قائم کیے جائیں گے اور 2,000 سے 5,000 کسانوں اور توسیعی کارکنوں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔تجویز میں تقریباً 6,000 جراثیمی وسائل (جرم پلازم) کے نمونوں کا جائزہ، سرٹیفائیڈ بیجوں کی پیداوار کو 2,000 سے 5,000 ٹن تک بڑھانے اور 10 سے 15 سیڈ ملٹی پلکیشن فارمز کے قیام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرٹیفائیڈ بیجوں کی فراہمی اور صنعتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے پانچ سے سات پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدے بھی کیے جائیں گے۔یہ منصوبہ مقامی سطح پر آئل سیڈز کی پیداوار میں اضافہ کرنے اور پاکستان کے خوردنی تیل کے درآمدی بل کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے