اسلام آباد 1 اپریل (اے بی سی):وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے پاکستان کے خشک اور نیم خشک علاقوں میں خراب حال چراگاہوں کی بحالی اور موسمیاتی لحاظ سے مزاحم مویشیوں کی ترقی کے لئے جدید انتظامی طریقوں اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز کے ذریعے 40 کروڑ روپے کا ایک منصوبہ تجویز کیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق پانچ سالہ یہ منصوبہ (جولائی 2026 تا جون 2031) سخت موسمی حالات اور محدود چارے کے وسائل سے متاثرہ علاقوں میں پائیدار چراگاہی نظم و نسق کو مضبوط بنانے اور مویشیوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔پاکستان کے خشک علاقوں میں ’’ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے موسمیاتی مزاحم چراگاہوں کی بہتری اور پائیدار مویشیوں کی ترقی‘‘ کے عنوان سے اس منصوبے کا مقصد خشک اور نیم خشک چراگاہوں کی بحالی کو فروغ دینا ہے جس کے لئے شجرکاری، بہتر نباتاتی کور، سِلوی پاسچرل نظام، رینچنگ ماڈلز اور ایلی کراپنگ جیسے طریقوں کو متعارف کرایا جائے گا تاکہ چارے کی دستیابی اور پائیدار چرائی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس کے علاوہ منصوبے کے تحت اعلیٰ معیار کی چراگاہی اقسام کی بڑے پیمانے پر افزائش اور بیج و چارہ بینکوں کے قیام پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ خشک علاقوں میں مویشیوں کے لئے معیاری چارے کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔اس اقدام کی ایک اہم خصوصیت جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کا استعمال ہے جس کے ذریعے چراگاہوں کی ڈیجیٹل نگرانی کی جائے گی اور چرائی کے نظم و نسق، پانی کے وسائل کے بہتر استعمال اور مجموعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہوگا۔یہ منصوبہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے تحت نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) کے رینج لینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا جبکہ اس میں ایریڈ زون ریسرچ سینٹر (اے زیڈ آر سی) کوئٹہ، ایریڈ زون ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (اے زیڈ آر آئی) بہاولپور، ڈی آئی خان اور عمرکوٹ کے ادارے بھی معاونت کریں گے۔یہ منصوبہ قومی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے جن میں حکومت کا فائیو ایز فریم ورک، 13واں پانچ سالہ منصوبہ، اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (یو این ایس ڈی جیز) اور نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پروگرام (این اے آئی جی پی) شامل ہیں۔
دستاویز کے مطابق یہ منصوبہ پائیدار چراگاہی نظم و نسق، چارے کی ترقی اور مقامی مویشی نسلوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کو فروغ دے گا جبکہ چرواہوں کے معاش کو زیادہ مضبوط اور مستحکم بنائے گا۔معاشی فوائد میں چارے کی لاگت میں کمی، مویشیوں کی پیداوار میں اضافہ اور دیہی آمدنی میں بہتری شامل ہیں۔ اس منصوبے کے تحت مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو بھی فروغ دیا جائے گا خصوصاً چرواہوں، نوجوانوں اور خواتین کو شامل کر کے مقامی سطح پر صلاحیت سازی کو مضبوط بنایا جائے گا۔ماحولیاتی فوائد میں صحرائی پھیلاؤ پر قابو، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور مٹی میں کاربن کے ذخیرے میں اضافہ شامل ہے، جو خشک علاقوں میں موسمیاتی موافقت میں مددگار ثابت ہوگا۔
اہم نتائج میں چراگاہوں کی بحالی اور بہتر نباتاتی کور کی فراہمی، بیج اور چارہ بینکوں کا قیام اور جی آئی ایس پر مبنی فعال مانیٹرنگ نظام کی تشکیل شامل ہے۔ اس کے علاوہ کسانوں، چرواہوں اور تکنیکی عملے کی تربیت، خشک علاقوں کے مطابق مویشی نسلوں کی پیداوار میں اضافہ، مویشیوں کی اموات اور بیماریوں میں کمی اور گھریلو آمدنی میں اضافہ بھی متوقع ہے۔یہ اقدام ادارہ جاتی اور کمیونٹی سطح پر صلاحیت کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مدد دے گا، جس سے پاکستان کے خشک علاقوں میں مویشیوں کی پائیدار ترقی کو طویل مدت تک فروغ ملے گا۔

