اسلام آباد۔2 اپریل (اے بی سی):گزشتہ 10 برسوں کے دوران آلو کی کاشت کے لئے مختص رقبہ نمایاں طور پر بڑھا ہے جو 16-2015 میں تقریباً 177,700 ہیکٹر سے بڑھ کر 26-2025 میں تقریباً 462,160 ہیکٹر تک پہنچ گیا ہے یعنی لگ بھگ 160 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق گندم، چاول اور مکئی کے بعد ملک کی اہم ترین غذائی فصلوں میں شامل آلو کی کاشت میں گزشتہ دہائی کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ بڑھتی ہوئی طلب، بہتر زرعی طریقہ کار اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کا استعمال ہے۔ دوسری جانب آلو کی پیداوار بھی نمایاں طور پر بڑھی ہے جو 3.8 ملین ٹن سے بڑھ کر تقریباً 12.0 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے یعنی تقریباً 216 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موجودہ سیزن میں آلو کی کاشت تقریباً 0.462 ملین ہیکٹر رقبے پر کی گئی ہےجو گزشتہ سال کے 0.386 ملین ہیکٹر کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہے۔
اس کے نتیجہ میں 26-2025 کے دوران پیداوار کے 12 ملین ٹن سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔اس سال متوقع 12 ملین میٹرک ٹن آلو کی پیداوار گزشتہ برسوں کے اوسط 8 سے 10 ملین میٹرک ٹن کے مقابلے میں تقریباً چار ملین میٹرک ٹن اضافی پیداوار کا باعث بنے گی۔پیداوار میں یہ مضبوط اضافہ اس شعبے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ رسد میں اضافے اور محدود برآمدی مواقع نے کاشتکاروں کی آمدنی پر دباؤ ڈالا ہے اور عارضی طور پر قیمتوں میں عدم توازن پیدا کیا ہے تاہم اس صورتحال نے فوری پالیسی توجہ کو بھی متحرک کیا ہے۔حکومت نے اس کے جواب میں منڈی کو مستحکم کرنے اور کاشتکاروں کی معاونت کے لئے مربوط اقدامات شروع کئے ہیں۔
وزیر اعظم کی جانب سے قائم کردہ اعلیٰ سطحی کمیٹی نے برآمدی رکاوٹوں کو دور کرنے اور منڈی تک رسائی بہتر بنانے کے لئے متعدد اجلاس منعقد کئے ہیں۔زیر غور اہم اقدامات میں بڑے تجارتی راستوں پر ڈرائیوروں کے لئے ویزوں کی سہولت فراہم کرنا اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں حائل لاجسٹک رکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہے۔حکام اضافی ذخائر کو سنبھالنے کے لئے سبسڈی شدہ سٹوریج سہولیات پر بھی کام کر رہے ہیں جبکہ برآمد کنندگان اور متعلقہ فریقین فریٹ اخراجات کم کرنے اور مسابقت بڑھانے کے لئے تجاویز تیار کر رہے ہیں۔ حوصلہ افزا ء بات یہ ہے کہ پاکستان نئے برآمدی مقامات، خصوصاً وسطی ایشیائی ریاستوں، کی تلاش میں سرگرم ہے جہاں سفارتی سطح پر آلو کی برآمدات کو فروغ دینے اور ابھرتی ہوئی منڈیوں سے فائدہ اٹھانے کی کوششیں جاری ہیں

