اسلام آباد۔13 اپریل (اے بی سی):وزارتِ انسانی حقوق نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی)، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ڈے کیئر مراکز کے قیام کی تجویز پیش کی ہے، جو انسانی حقوق اور خواتین کی ترقی کے لیے 2.87 ارب روپے کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ اقدام "امبریلا پی سی ون: انسانی حقوق و خواتین ترقیاتی اقدامات” کا حصہ ہے۔ اس منصوبے میں متعدد اجزا شامل ہیں جن کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانا، صنفی مساوات کو فروغ دینا اور کام کرنے والی خواتین کی معاونت کرنا ہے۔اس تجویز کا ایک اہم پہلو آئی سی ٹی، اے جے کے اور جی بی میں ڈے کیئر مراکز کا قیام ہے، جس کے لیے تقریباً 57 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد محفوظ بچوں کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنا ہے، خاص طور پر سرکاری اداروں میں کام کرنے والی خواتین کے لیے، تاکہ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ دستاویز کے مطابق اس جزو کو اپریل 2025 میں ڈیپارٹمنٹل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (ڈی ڈی ڈبلیو پی) کی منظوری بھی حاصل ہو چکی ہے۔اس اہم منصوبے کا ایک اور بڑا حصہ فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن رائٹس (ایف آئی ایچ آر) کا قیام ہے، جس کے لیے تقریباً 1.5 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ ادارہ انسانی حقوق کے شعبے میں تحقیق، تربیت اور پالیسی سازی کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ اس کے تحت تربیتی پروگرامز، سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جائے گا جبکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا جائے گا۔اس منصوبے میں صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کا پروگرام بھی شامل ہے، جس کے لیے تقریباً 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس پروگرام کا مقصد خواتین کے حقوق سے متعلق آگاہی کو فروغ دینا، صنفی حساس پالیسیوں کو مضبوط بنانا اور خواتین کے تحفظ اور بااختیاری کے لیے ادارہ جاتی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر صنفی امور پر کمیونٹی کی شمولیت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔منصوبے کی منظوری کے بعد یہ اقدام پاکستان میں انسانی حقوق کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جبکہ خصوصاً خواتین کو درپیش ساختی رکاوٹوں بالخصوص قابلِ رسائی بچوں کی نگہداشت کی سہولیات کے ذریعےدور کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔

