تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے لئے 41.7 ارب روپے کے منصوبے زیرِ غور

اسلام آباد۔22 اپریل (اے بی سی):وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام 2026-27 (پی ایس ڈی پی) کےتحت تعلیمی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، تکنیکی و پیشہ وارانہ تربیت کے فروغ اور جاری اصلاحات کو برقرار رکھنے کے لئے 41 ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق اس تجویز میں مجموعی طور پر 23 منصوبے شامل ہیں، جن میں 16 جاری اور 7 نئے منصوبے ہیں جو تعلیمی شعبے میں موجودہ پروگراموں کے تسلسل اور ہدفی توسیع کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔جاری منصوبوں کے لئے وزارت نے مجموعی طور پر 33.4 ارب روپے کی ضرورت ظاہر کی ہے جس میں 400 ملین روپے کا غیر ملکی زرِ مبادلہ جزو شامل ہے۔ اس میں وزارت کے براہِ راست زیرِ انتظام منصوبوں کا حجم 29.86 ارب روپے جبکہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کے منصوبوں کا حجم 3.56 ارب روپے ہے۔اس کے علاوہ وزارت نے 25 ارب روپے سے زائد لاگت کے سات نئے منصوبے بھی تجویز کئے ہیں جن کے لئے مالی سال 2026-27 میں 8.28 ارب روپے درکار ہوں گے۔ ان میں سے بیشتر منصوبے اس وقت منظوری کے لئے سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی ) کے سامنے پیش کئے جانے کے مرحلے میں ہیں۔اہم اقدامات میں صوبت پور میں دانش سکول کے قیام کا منصوبہ شامل ہے جس کی تخمینی لاگت 2.31 ارب روپے ہے جبکہ مالی سال 2027 کے لئے 1.18 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔حکومت نے 4.72 ارب روپے مالیت کا ایک بڑا منصوبہ بھی تیار کیا ہے جس کا مقصد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ایف ڈی ای) میں ڈیجیٹل لرننگ، لرننگ مینجمنٹ سسٹمز اور ٹیکنالوجی کے انضمام کو ادارہ جاتی شکل دینا ہےجس کے لئے مالی سال 2027 میں 732 ملین روپے درکار ہوں گے۔ایک اور اہم اقدام کے تحت اسلام آباد میں ایف ڈی ای کے زیرِ انتظام 200 تعلیمی اداروں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ شامل ہےجس کی لاگت 482.82 ملین روپے ہے، اور مالی سال 2027 کے لئے بھی یہی رقم طلب کی گئی ہےجو سرکاری سکولوں میں توانائی کی بچت اور پائیداری کی جانب پیشرفت کی عکاسی کرتا ہے۔ وزارت نے فیز ٹو کے تحت ایف ڈی ای اداروں میں بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لئے 7.49 ارب روپے تجویز کئے ہیں جو نئے منصوبوں میں سب سے بڑا حصہ ہے۔ اس منصوبے کے لئے آئندہ مالی سال میں 1.9 ارب روپے درکار ہوں گے۔مزید برآں اسلام آباد کے 137 تعلیمی اداروں میں فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی کی لیبارٹریوں کی اپ گریڈیشن کے لئے 1.08 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور مالی سال 2027 میں بھی اسی رقم کا مطالبہ کیا گیا ہے۔تکنیکی تعلیم کے فروغ کے لئے 2.69 ارب روپے کا ایک منصوبہ بھی شامل کیا گیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کے تمام وفاقی سکولوں میں میٹرک ٹیک پروگرام متعارف کرایا جائے گا اور اسے انٹرمیڈیٹ سطح پر اعلیٰ تعلیم کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے لئے مالی سال 2027 میں 1.14 ارب روپے درکار ہوں گے۔پی ایس ڈی پی 2026-27 میں انٹرٹیک اور میٹرک ٹیک طلبہ کے لئے 6.5 ارب روپے کا ایک بڑا سکالرشپ پروگرام بھی شامل ہے جس کا مقصد تکنیکی تعلیم کو فروغ دینا اور طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرنا ہے، اس منصوبے کے لئے آئندہ پی ایس ڈی پی میں 1.7 ارب روپے کی درخواست کی گئی ہے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے