اسلام آباد۔7 مئی (اے بی سی):حکومت نے بلوچستان کے 3,793 دور دراز علاقوں تک ڈیجیٹل رابطہ بڑھانے کے لئے وسیع اقدامات کئے ہیں جبکہ صوبے میں اب تک 31 رسائی منصوبے شروع کئے جا چکے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یونیورسل سروس فنڈ کے تھری جی اور فور جی رسائی پروگرام نے آغاز سے اب تک نمایاں پیشرفت کی ہے۔ مجموعی طور پر دیئے گئے 31 منصوبوں میں سے 29 مکمل ہو چکے ہیں جبکہ دو پر عملدرآمد جاری ہے۔یہ منصوبے مجموعی طور پر 3,793 مواضعات پر مشتمل ہیں جن میں سبی، ژوب، قلات، چاغی، گوادر، خضدار، پشین، قلعہ سیف اللہ، مستونگ، جعفرآباد، ڈیرہ بگٹی، بولان اور پنجگور کے اہم اضلاع شامل ہیں۔
اس اقدام کے تحت 42 لاکھ 70 ہزار افراد کو موبائل براڈ بینڈ سروسز فراہم کی گئی ہیں جو پاکستان کے کم مربوط علاقوں میں ڈیجیٹل شمولیت کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔نمایاں مکمل شدہ منصوبوں میں سبی منصوبہ شامل ہے جس کے تحت 258 مواضعات میں 4 لاکھ 23 ہزار سے زائد افراد کو سہولت فراہم کی گئی جبکہ ژوب منصوبے کے ذریعے 3 لاکھ 63 ہزار سے زیادہ افراد مستفید ہوئے۔
اسی طرح بولان منصوبے نے تقریباً 4 لاکھ 28 ہزار 954 افراد تک رسائی حاصل کی جبکہ مستونگ منصوبے کے ذریعے ایک لاکھ 38 ہزار 945 سے زائد رہائشیوں کو رابطے کی سہولت ملی۔حالیہ پیشرفت سے مسلسل توسیع ظاہر ہوتی ہے کیونکہ کئی منصوبے 2023 اور 2025 تک مکمل کئے گئےجو اس شعبے پر حکومت کی مسلسل توجہ کی عکاسی کرتے ہیں۔
یونیورسل سروس فنڈ پروگرام کا مقصد خاص طور پر جغرافیائی طور پر دشوار اور معاشی طور پر پسماندہ علاقوں میں ٹیلی کام خدمات تک مساوی رسائی یقینی بنانا ہے۔تھری جی اور فور جی رابطے کی فراہمی سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، تعلیم اور صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی، اور بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں ڈیجیٹل طرز حکمرانی کے فروغ کی توقع ہے۔یہ توسیع ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر بہتر بنانے اور شہری و دیہی آبادی کے درمیان رابطے کے فرق کو کم کرنے کی پاکستان کی وسیع حکمتِ عملی سے ہم آہنگ ہے۔

