اسلام آباد-19مئی (اے بی سی):پاکستان نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں کے تناظر میں بلا تعطل تجارتی بہاؤ برقرار رکھنے اور روایتی برآمدی منڈیوں پر انحصار کم کرنے کے لیے چاول کی برآمدات کو افریقا، وسطی ایشیا اور مشرقِ بعید کی منڈیوں تک وسعت دینے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز ات کے مطابق یہ حکمتِ عملی ایسے وقت میں اختیار کی جا رہی ہے جب اہم بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث تاخیر، جہازوں کے متبادل راستوں پر جانے اور فریٹ و انشورنس اخراجات میں اضافے نے تجارت کی کارکردگی اور برآمدی مسابقت کو متاثر ، بڑھتے ہوئے ایندھن اور لاجسٹک اخراجات نے برآمدی لاگت میں اضافے اور بروقت ترسیل کو متاثر کیا ہے۔دستاویز ات کے مطابق ان رکاوٹوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ کی بعض منڈیوں میں قلیل مدتی بنیاد پر برآمدات میں کمی آ سکتی ہے جبکہ عالمی چاول کی قیمتوں اور تجارتی بہاؤ میں بھی اتار چڑھاؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکام متبادل زمینی اور بحری راستوں کو مضبوط بنا رہے ہیں، ٹریس ایبلٹی نظام بہتر کر رہے ہیں، برآمد کنندگان کی استعداد بڑھا رہے ہیں اور برآمدی عمل کو آسان بنانے کے لیے فائٹو (Phyto) جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کیے جا رہے ہیں۔محکمہ تحفظِ نباتات (DPP) بھی مؤثر فائیٹو سینیٹری سرٹیفکیشن اور سینیٹری و فائیٹو سینیٹری (SPS) تقاضوں پر سخت عمل درآمد کے ذریعے برآمدات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ برآمدی کھیپوں کی منزل تک رسائی میں تاخیر سے بچا جا سکے۔دستاویز ات کے مطابق ڈی پی پی نے پاکستان سنگل ونڈو (PSW) کے ساتھ سرٹیفکیشن کے طریقہ کار کو مربوط بنا کر برآمدی سہولت کاری کو مزید بہتر کیا ہے جس سے سرٹیفکیٹس کی آن لائن درخواست اور اجرا ممکن ہو گیا ہے، اب 85 فیصد سے زائد سرٹیفکیٹس 24 گھنٹوں کے اندر جاری کیے جا رہے ہیں جس سے برآمدی کارکردگی میں بہتری اور تاخیر میں کمی آئی ہے۔
علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے لیے وزارتِ تجارت نے ایران کے زمینی راستے کے ذریعے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات پر فنانشل انسٹرومنٹ کی شرط سے عارضی استثنیٰ دے دیا ہے جس میں چاول سمیت اہم اشیا شامل ہیں، اس اقدام کا مقصد طریقہ کار میں آسانی پیدا کرنا اور متبادل تجارتی راہداریوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔پاکستان دنیا کے نمایاں چاول پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے اور 150 سے زائد ممالک کو چاول برآمد کرتا ہے۔ ملک میں سالانہ تقریباً 90 سے 100 لاکھ میٹرک ٹن چاول پیدا ہوتے ہیں جبکہ برآمد کے لیے 45 سے 55 لاکھ میٹرک ٹن اضافی پیداوار دستیاب ہوتی ہے۔پاکستان کی چاول برآمدات نسبتاً مستحکم رہیں اور 2024 میں 43 لاکھ 80 ہزار میٹرک ٹن سے معمولی کمی کے بعد 2025 میں 43 لاکھ 20 ہزار میٹرک ٹن رہ گئیں۔اگرچہ ملائیشیا، انڈونیشیا، بیلجیئم اور بینن جیسے روایتی بازاروں میں برآمدات میں کمی دیکھی گئی تاہم متحدہ عرب امارات کو برآمدات میں اضافہ ہوا، جو بدلتے ہوئے رجحانات اور منڈیوں میں تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔
جنوری تا اپریل 2026 چاول کی برآمدات تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن رہیں۔ سرحدی بندشوں کے باعث افغانستان کو برآمدات صفر ہو گئیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور چین مضبوط منڈیوں میں شامل رہے۔ اسی دوران آئیوری کوسٹ سمیت افریقی ممالک کو برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو نئی منڈیوں میں تدریجی پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔دستاویز ات کے مطابق اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کی روایتی منڈیاں بڑی حد تک مستحکم رہی ہیں، تاہم افریقا اور دیگر غیر روایتی منڈیوں میں برآمدات میں اضافہ وسیع تر برآمدی تنوع کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔یورپی یونین میں سخت SPS تقاضوں کے باعث معیار پر عمل درآمد مزید مضبوط ہوا جبکہ برآمدی حجم نسبتاً محدود رہا جس سے اعلیٰ معیار کی حامل منڈیوں کی جانب تدریجی منتقلی کا رجحان ظاہر ہوتا ہے۔
خوراک کے تحفظ سے متعلق خدشات خصوصاً زیادہ سے زیادہ باقیات کی حد (MRLs) اور افلاٹاکسن آلودگی سے نمٹنے کے لیے محکمہ تحفظِ نباتات نے وزارتِ تجارت اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے متعدد اصلاحی اقدامات کیے ہیں،ان اقدامات میں چاول کی فصل کے لیے 14 خطرناک زرعی ادویات پر پابندی، سخت معائنہ، لازمی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور جعلی رپورٹنگ میں ملوث برآمد کنندگان کو بلیک لسٹ کرنا شامل ہے۔دستاویزات کے مطابق حکام نے گڈ ایگریکلچرل پریکٹسز (GAP)، نمی کے کنٹرول کے اقدامات اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ معائنہ کار اداروں جیسے ایس جی ایس (SGS) اور یوروفنز (Eurofins) کے ساتھ تعاون کو بھی فروغ دیا ،اس کے نتیجے میں معیار پر عمل درآمد میں نمایاں بہتری آئی جبکہ یورپی یونین کی جانب سے روکی گئی برآمدی کھیپوں کی تعداد 2024 میں 77 سے کم ہو کر 2025 میں 38 اور اپریل 2026 تک مزید کم ہو کر صرف پانچ رہ گئی۔

