پیر. جولائی 15th, 2024

سائبر حملہ آور آدھے سے زیادہ پاس ورڈز کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کریک کر سکتے ہیں: کیسپرسکی رپورٹ

سائبر حملہ آور آدھے سے زیادہ پاس ورڈز کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں کریک کر سکتے ہیں: کیسپرسکی رپورٹ

اسلام آباد: جون 2024 میں، کیسپرسکی کے ماہرین نے تقریبا بیس کروڑ انگریزی پاس ورڈز کیے محفوظ ہونے پر ایک بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا، جن کو انفارمیشن چرانے والے والے سائبر کریمینلز کی جانب سے چرایا گیا اور ڈارک نیٹ پر دستیاب ہیں۔ تحقیقی نتائج کے مطابق، تجزیہ کیے گئے تمام پاس ورڈز میں سے 45 فیصد جو کہ تقریباً نو کروڑ ہیں، ایک منٹ کے اندر سکیمرز کے ذریعے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ صرف 23 فیصد کافی مزاحم نکلے اور ان کو توڑنے میں ایک سال سے زیادہ وقت لگے گا۔

کیسپرسکی ٹیلی میٹری 2023 میں پاس ورڈ چوری کرنے والے صارفین پر حملہ کرنے کی 32 ملین سے زیادہ کوششوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ نمبر ڈیجیٹل حفاظت اور بروقت پاس ورڈ کی پالیسیوں کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ کیسپرسکی تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ زیر مطالعہ ہ پاس ورڈز کی اکثریت کافی مضبوط نہیں تھی اور سمارٹ اندازہ لگانے والے الگورتھم کا استعمال کرکے آسانی سے ان کا پتہ لگایا ا جا سکتا تھا۔
اس کے علاوہ 57 فیصد پاسورڈز ایسے تھے جن میں ڈکشنری کے زیادہ استعمال ہنے والے الفاظ جیسا کہ احمد، کمار، ڈیوڈ، کیوین، گوگل، ہیکر، گیمر، ٹیمز وغیرہ کو پاسورڈ کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ تحقیق کے مطابق صرف 19فیصد پاسورڈ محفوظ ترین سمجھے جا سکتے ہیں۔ جبکہ ان کو بھی وقتا فوقتا تبدیل نہ کرنے کے باعث ایک سال کے اندر چرایا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے کیسپرسکی ڈیجیٹل فٹ پرنٹ انٹیلی جنیس کی سربراہ یولیا نوویکووا کا کہنا ہے کہ ہم بنیادی غلطیاں کرتے ہیں اور اکثر اپنی علاقائی زبان کے معروف نام یا نمبرز کو بطور پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں لیکن ایسے پاسورڈز کو آسنی سے توڑا جا سکتا ہے تا ہم مارکیٹ میں موجود پاسورڈ مینجرز جیسا کہ کیسپرسکی پاس ورڈ مینجر کی بدولت ڈیجیٹل حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ جہاں پاس ورڈز کا زیادہ ڈیتا زیادہ عرصے تک محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

پاس ورڈ کو مضبوط کرنے کے لیے، صارفین کو ہر سروس کے لیے ایک مختلف پاس ورڈ استعمال کرنا چاہیے۔ اس طرح، یہاں تک کہ اگر آپ کا ایک اکاؤنٹ چوری ہو جاتا ہے، باقی اس کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ بہتر ہے کہ ایسے پاس ورڈز استعمال نہ کریں جن کا آپ کی ذاتی معلومات، جیسے سالگرہ، خاندان کے افراد کے نام، پالتو جانور یا آپ کے اپنے نام سے آسانی سے اندازہ لگایا جا سکے۔ یہ اکثر پہلا اندازہ ہوتا ہے جو حملہ آور کوشش کرے گا۔ آپ جو بھی سروسز استعمال کرتے ہیں ان کے لیے لمبے اور منفرد پاس ورڈز کو یاد رکھنا تقریباً ناممکن ہے، لیکن ایک خاص حل، جیسے کیسپرسکی پاس ورڈ مینیجر کے ساتھ، آپ صرف ایک ماسٹر پاس ورڈ یاد کر سکتے ہیں۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے