تحریر: محمد سلمان ظفر
اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی جانب سے 30 اکتوبر کی رات اچانک بری امام ہاؤس کو سیل کیے جانے کے واقعے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ خصوصاً اس تناظر میں کہ وزیراعظم آفس کے عقب اور ڈپلومیٹک انکلیو کے قریب مین ہٹن طرز کے ایک نئے کمرشل شہر کی تعمیر کے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے، جس کے لیے پہلے ہی مسلم کالونی اور کچی آبادی کو ختم کیا جا چکا ہے۔
تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ بری امام دربار کے عین سامنے واقع بری امام ہاؤس کو سیل کرنے کی آخر کیا ضرورت پیش آئی؟ وہاں نہ کوئی کمرشل سرگرمی جاری تھی اور نہ ہی یہ کسی عام رہائشی آبادی کا معاملہ تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں گزشتہ 53 برس سے ملک بھر اور بیرون ملک سے آنے والے زائرین کی خدمت اور ان کے لیے لنگر کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
بری امام ہاوس اور عوامی خدمت کے اس سلسلے کا آغاز 1973 میں راجہ محمد اکرم شہید رحمتہ اللہ علیہ نے کیا تھا۔ اس وقت کے رائج طریقہ کار کے مطابق انہوں نے تقریباً 200 کنال اراضی خریدی، جس کے دستاویزی شواہد اور اسٹیمپ پیپرز موجود ہیں۔ اسی دور میں ان کے نام پر بجلی کا میٹر بھی نصب ہوا۔ گذشتہ 53 سالوں سے یہ جگہ بری امام صاحب دربار پر آنے والے زائرین کی خدمت کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
راجہ اکرم شہید رحمتہ اللہ علیہ کے اس خاندان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ اس نے کبھی اس سلسلے کو کاروبار یا ذاتی آمدن کا ذریعہ نہیں بنایا۔ پاکستان میں مختلف درباروں کے ساتھ گدی نشینی اور نذرانوں کا نظام موجود ہے، لیکن راجہ محمد اکرم شہید اور ان کے بعد راجہ سرفراز اکرم نے ہمیشہ خود کو گدی نشین کے بجائے خادم درگاہ کہا۔ یہاں نہ زائرین سے نذرانے وصول کرنے کا کوئی سلسلہ قائم کیا گیا اور نہ ہی لنگر کو کاروباری سرگرمی بنایا گیا۔
گزشتہ 53 برس سے راجہ اکرم شہید کے خاندان نے اپنے ذاتی وسائل سے لنگر خانے کا نظام جاری رکھا ہوا ہے۔ جمعرات، جمعہ، ہفتہ اور اتوار سمیت ہفتے کے دیگر دنوں میں بھی آنے والے زائرین کو عزت و احترام کے ساتھ کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ اس انتظام میں کسی قسم کی تفریق نہیں کی جاتی اور زائرین کو وہی کھانا پیش کیا جاتا ہے جو دیگر لوگوں کے لیے تیار ہوتا ہے۔
یہاں ایک اہم پہلو محکمہ اوقاف کے کردار کا بھی ہے۔ بری امام دربار شریف محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے اور زائرین کی جانب سے دربار کے گلوں میں جمع کرائی جانے والی رقوم بھی محکمہ اوقاف کے پاس جاتی ہیں۔ تاہم زائرین کے لیے باقاعدہ لنگر، مناسب بیٹھنے کی جگہ اور کھانے پینے کے انتظامات کی ذمہ داری عملاً بری امام ہاؤس کے اس رضاکارانہ نظام نے سنبھال رکھی ہے۔
اسلامی تعلیمات اور بالخصوص تصوف کی روایت میں بھوکے کو کھانا کھلانے اور مسافروں کی خدمت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ لنگر محض کھانا تقسیم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ مساوات، انسان دوستی، سخاوت اور خدمت خلق کی ایک عملی روایت ہے۔ بری امام ہاؤس میں گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے سے جاری یہ سلسلہ بھی اسی روایت کی عکاسی کرتا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاملے کو حکومتی اعلیٰ سطح پر بھی اٹھایا گیا تھا۔ بری امام ہاؤس کی جانب سے یہ واضح کیا گیا کہ اگر حکومت اس علاقے میں کوئی بڑا ترقیاتی یا کمرشل منصوبہ بنانا چاہتی ہے تو انہیں اس پر اصولی اعتراض نہیں۔ وہ زمین کے حصول اور حکومتی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بننے کے خواہاں نہیں ہیں۔
تاہم ان کی بنیادی درخواست صرف یہ تھی کہ یہاں موجود مسجد، لنگر خانہ اور زائرین کی خدمت کا نظام ختم نہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ اسلام آباد انتظامیہ، سی ڈی اے اور محکمہ اوقاف مل بیٹھ کر کوئی ایسا انتظام تشکیل دیں جس کے تحت مسجد اور لنگر خانے کا انتظام باضابطہ طور پر محکمہ اوقاف کے تحت چلا جائے، جبکہ راجہ سرفراز اکرم اور ان کا خاندان حسب سابق لنگر کے اخراجات اور انتظامی معاونت جاری رکھنے کے لیے تیار رہے۔
یہ ایک قابل عمل اور مثبت تجویز تھی جسے خوش دلی سے قبول کیا جانا چاہیے تھا۔ حکومت زمین حاصل کر سکتی ہے، اپنا ترقیاتی منصوبہ بھی مکمل کر سکتی ہے اور اس کے ساتھ مسجد، لنگر خانے اور زائرین کی خدمت کا نظام بھی برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس تجویز پر سنجیدہ مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کے بجائے رات کے وقت اچانک بری امام ہاؤس کو سیل کر دیا گیا۔ اس اقدام سے نہ صرف زائرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ گزشتہ 53 برس سے جاری خدمت خلق کے ایک اہم سلسلے کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو گیا ہے۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی، چیئرمین سی ڈی اے اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اس معاملے کا فوری نوٹس لیں۔ زمین کے حصول اور ترقیاتی منصوبے پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ مسجد اور لنگر خانے کا سلسلہ مستقل طور پر جاری رہے۔
ترقی کا اصل مقصد شہری سہولتوں میں اضافہ اور انسانی زندگی کو بہتر بنانا ہے، نہ کہ عوامی خدمت کی نصف صدی پرانی روایت کو ختم کرنا۔ مین ہٹن طرز کا کمرشل شہر ضرور تعمیر کیا جائے، لیکن اس ترقی کے درمیان بھوکے کو کھانا کھلانے، مسافر کی خدمت کرنے اور زائرین کو عزت دینے کی روایت کو قربان نہ کیا جائے۔
