پاکستان اور امریکہ کے درمیان تاریخی فل برائٹ۔ایچ ای سی شراکت داری کی تجدید، اعلیٰ تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے اہم پیش رفت
حکومتِ پاکستان اور ریاستہائے متحدہ امریکہ نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اپنی دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان (یوس ای ایف پی) کے درمیان ایک نئے پانچ سالہ معاہدے کی تجدید کر دی ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے تعلیمی معیار، انسانی وسائل کی ترقی، تحقیق اور بین الاقوامی تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے اس تجدید شدہ معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2031-32 تک پانچ سال کی مدت پر محیط ہوگا۔ اس کے تحت فل برائٹ ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرام، وزٹنگ اسکالر پروگرام برائے پوسٹ ڈاکٹریٹ اسکالرز، فارن لینگویج ٹیچنگ اسسٹنٹ (FLTA) پروگرام اور ہیوبرٹ ایچ ہمفری فیلوشپ پروگرام شامل ہوں گے۔
معاہدے کے تحت پانچ سالہ مدت کے دوران 66 پی ایچ ڈی اسکالرز کو معاونت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ دیگر پروگراموں کے ذریعے بھی پاکستانی طلبہ، اسکالرز اور ماہرین کو بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور پیشہ ورانہ مہارت کے حصول کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے تعلیمی اور تحقیقی شعبوں کو مزید مضبوط بنانا اور ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ انسانی وسائل کی تیاری ہے جو ملک کی سماجی و معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
مالی معاونت کے حوالے سے ایچ ای سی ہر سال کم از کم 4.54 ملین امریکی ڈالر فراہم کرے گا، جبکہ پانچ سال کے دوران مجموعی مالیاتی عزم 6.48 ارب پاکستانی روپے تک محدود ہوگا۔ معاہدے کے مطابق 2 ملین امریکی ڈالر 30 جون تک، مزید 2 ملین امریکی ڈالر 31 جنوری تک، جبکہ باقی رقم 30 اپریل تک فراہم کی جائے گی، بشرطیکہ حکومتی فنڈز بروقت جاری ہوں۔ یوس ای ایف پی کے پاس موجود ایچ ای سی کے فنڈز سے حاصل ہونے والا منافع بھی طلبہ کے تعلیمی وظائف میں دوبارہ صرف کیا جائے گا، جس سے مزید طلبہ کو اس پروگرام سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔
معاہدے کے تحت اسکالرز کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور کسی مخصوص گروہ، خطے یا زمرے کے لیے کوئی مقررہ کوٹہ مختص نہیں ہوگا۔ ایچ ای سی انتخابی پینلز میں براہِ راست شرکت کرے گا اور قومی ترقی اور ملکی سلامتی کی ترجیحات سے ہم آہنگ شعبہ ہائے تعلیم و تحقیق کے تعین میں بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔ اس مشترکہ طریقۂ کار کے ذریعے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ پروگرام اعلیٰ ترین تعلیمی میرٹ کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ملک کی بدلتی ہوئی قومی ضروریات سے بھی ہم آہنگ رہے۔
پروگرام کی کارکردگی، اثرات اور مجموعی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ جائزہ کمیٹی کا اجلاس سال میں دو مرتبہ منعقد ہوگا۔ اس کے علاوہ یوس ای ایف پی ایچ ای سی کو سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے فراہم کرے گا، جبکہ متعلقہ ریکارڈز مناسب پیشگی اطلاع پر ایچ ای سی کے جائزے کے لیے دستیاب ہوں گے۔ اس انتظام کے ذریعے مالی شفافیت، جواب دہی اور مؤثر نگرانی کو مزید یقینی بنایا جائے گا۔
تجدید شدہ شراکت داری صرف پی ایچ ڈی اسکالرشپس تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ ایچ ای سی اور یوس ای ایف پی پاکستان بھر میں مشترکہ آگاہی اور تشہیری مہمات بھی چلائیں گے، جن کے لیے ایچ ای سی کے ملک بھر میں موجود اعلیٰ تعلیمی اداروں کے وسیع نیٹ ورک سے استفادہ کیا جائے گا۔ مستقبل میں فیکلٹی اور یونیورسٹی انتظامیہ کے تبادلوں سمیت دیگر متعلقہ تعلیمی اور علمی اقدامات میں تعاون کے امکانات بھی تلاش کیے جائیں گے۔
یہ نیا معاہدہ فروری 2016 میں طے پانے والے فل برائٹ۔ایچ ای سی پی ایچ ڈی معاہدے کی بنیاد پر آگے بڑھ رہا ہے، جس کے تحت مالی سال 2016 سے 2020 کے دوران 125 پاکستانی اسکالرز کے لیے 25.786 ملین امریکی ڈالر مختص کیے گئے تھے۔ 2016 کا یہ اہم معاہدہ اکتوبر 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما اور وزیراعظم محمد نواز شریف کے درمیان ملاقات اور جون 2015 میں شروع کیے گئے یو ایس۔پاکستان نالج کوریڈور کے تناظر میں سامنے آیا تھا۔
تجدید شدہ معاہدہ ایچ ای سی اور یوس ای ایف پی کے درمیان ایک دہائی پر محیط تعلیمی شراکت داری میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور فل برائٹ۔ایچ ای سی تعاون کے تیسرے مرحلے کا آغاز ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس شراکت داری نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور علمی استعداد کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دیرپا تعلیمی روابط کے استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
تجدید شدہ معاہدے کی دستخطی تقریب اپنے طے شدہ اصل وقت سے ڈاکٹر پیٹر موران، ایگزیکٹو ڈائریکٹر یوس ای ایف پی، کے والد کے انتقال کے باعث مؤخر کی گئی تھی۔ حکومتِ پاکستان، وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پروگرام سے وابستہ تمام ادارے ڈاکٹر پیٹر موران اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس مشکل مرحلے کے باوجود تعلیمی شراکت داری کے لیے یوس ای ایف پی کی مسلسل وابستگی اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
حکومتِ پاکستان معیاری اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو وسعت دینے، تحقیق و جدت کو فروغ دینے، باصلاحیت اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور بین الاقوامی تعلیمی شراکت داریوں کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ تجدید شدہ فل برائٹ۔ایچ ای سی معاہدہ ان ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے اور اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ تعلیم، تحقیق، علم کے تبادلے اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے
