بےنظیر نشوونما پروگرام کے تحت 2025 میں 37 لاکھ غذائی پیکٹس کی تقسیم

اسلام آباد۔16دسمبر (اے پی پی):پاکستان میں حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور کم عمر بچوں میں قد کی کمی (اسٹنٹنگ) اور غذائی قلت پر قابو پانے کی کوششوں کے تحت بینظیر نشوونما پروگرام 2025 میں 37 لاکھ سے زائد خصوصی غذائیت سے بھرپور خوراک (ایس این ایف) کے پیکٹس تقسیم کرے گا۔2020 میں شروع کیا جانے والا یہ پروگرام 2023 میں ملک بھر میں توسیع کے بعد غذائی قلت کے خلاف ایک اہم حکومتی اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کا مقصد زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دنوں کے دوران غذائی کمی کو دور کرنا ہے۔ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب ایک دستاویز کے مطابق، اس منصوبہ بندی شدہ تقسیم کا مقصد خصوصاً کم آمدنی والے گھرانوں میں ماں اور بچے کی غذائی کیفیت کو بہتر بنانا ہے، جہاں صحت مند خوراک تک رسائی محدود ہے۔

اس وقت یہ پروگرام ملک کے 157 اضلاع میں قائم 540 سہولت مراکز کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں تقریباً 37 لاکھ خواتین اور بچوں کو غذائیت سے بھرپور سپلیمنٹس فراہم کیے جا رہے ہیں۔ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ ماؤں کو روزانہ 75 گرام ایس این ایف جبکہ بچوں کو روزانہ 50 گرام فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ سپلیمنٹس صحت مند ماں اور بچے کی نشوونما کے لیے ضروری وٹامنز، منرلز، امینو ایسڈز اور فیٹی ایسڈز سے تقویت یافتہ ہیں۔غذائی معاونت کے ساتھ ساتھ، پروگرام کے تحت مستحقین کو مشروط نقد رقوم بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

مقررہ طبی خدمات پر عمل درآمد اور کم از کم 90 فیصد خالی ایس این ایف ساشے واپس کرنے والی خواتین کو بچی کی صورت میں فی سہ ماہی 4,000 روپے جبکہ بچے کی صورت میں 3,500 روپے دیے جاتے ہیں، جس سے غذائیت اور صحت سے متعلق گھریلو مالی دباؤ میں کمی آتی ہے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت نافذ کیے جانے والے اس نشوونما اقدام کا مقصد پاکستان میں قد کی کمی کی بلند شرح سے نمٹنا ہے۔

دستاویز میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ملک میں دو تہائی سے زائد گھرانے غذائیت سے بھرپور خوراک برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جو اس پروگرام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔پروگرام کے تحت 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں غذائی معاونت میں مخصوص تبدیلیاں متعارف کرانے کا بھی منصوبہ ہے۔ جسمانی وزن کے اشاریے (بی ایم آئی) کے مطابق زائد وزن یا موٹاپے کا شکار قرار دی جانے والی خواتین کو معیاری ایس این ایف کے بجائے متعدد مائیکرونیوٹرینٹس پر مشتمل سپلیمنٹس (ایم ایم ایس) فراہم کیے جائیں گے، جو ماں کی غذائی ضروریات کے مطابق ایک ہدفی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ اقدام ملک میں پھیلی ہوئی غذائی قلت کے خلاف پاکستان کے وسیع تر ردعمل کا حصہ ہے، جس کی بڑی وجہ صحت مند اور متنوع غذا کی بلند لاگت ہے۔ گھریلو خوراک پر ہونے والا خرچ غذائیت سے بھرپور غذا کی مجموعی لاگت کا صرف تقریباً 60 فیصد پورا کرتا ہے، جس کے باعث یہ پروگرام کمزور طبقات کے لیے ایک نہایت اہم سہارا بنا ہوا ہے۔

Related Post

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے